خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 170 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 170

170 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 اپریل 2011ء خطبات مسرور جلد نهم رضی اللہ تعالیٰ عنہ (سابق سندر سنگھ دفعدار) کی نسبت فرمایا تھا کہ اگر کسی شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی کی زیارت کرنی ہے تو وہ سردار صاحب کو دیکھ لے۔انہوں نے دنیا کی دولت کو لات مار کر اسلام کی روکھی روٹیاں قبول کی ہیں۔پھر لکھتے ہیں کہ میر منشی مرزا جلال الدین صاحب احمدی مرحوم میرے حقیقی پھوپھا تھے اور حضور نے کتاب انجام آتھم میں مندرجہ فہرست میں صحابہ 313 میں موصوف کا نام سب سے اول پر رکھا ہے۔ان ہی کے فیض صحبت سے اور سید غلام شاہ صاحب مرحوم احمدی سکنہ نورنگ تحصیل کھاریاں اور مولوی برہان الدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ مرحوم احمدی جہلم کے فیض صحبت سے احمدیت کی نعمت را قم اور اُس کے والد کو ملی ہے۔سید صاحب موصوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور مولوی صاحب موصوف میرے والد ماجد مرحوم کے استاد بھی تھے۔مرزا محمد اشرف صاحب پنشنر مهاجر سابق محاسب صدر انجمن احمد یہ قادیان میرے حقیقی پھوپھی زاد تھے۔انہی ایام میں حضرت جری اللہ فی حلل الانبیاء کی خدمت میں کسی صاحب نے عرض کی۔حضور انور مطبع خانہ میں کبھی کبھی تشریف لایا کریں۔اس کے جواب میں حضور نے فرمایا کہ آپ مجھے معاف رکھیں میں وہاں نہیں آسکتا۔کیونکہ وہاں حقہ رکھا ہوا ہوتا ہے اور میں حقہ کو دیکھ کر سر سے پاؤں تک شرم میں پنہاں ہو جاتا ہوں۔لیکن میں حقہ پینے والوں کو دل سے برا نہیں جانتا۔پھر فرمایا کہ بعض لوگ بیعت کے واسطے میرے پاس آتے ہیں، ان کی داڑھی اُسترے سے منڈھی ہوئی ہوتی ہے، اُن کے منہ سے شراب کی بُو آتی ہے اُن کو بھی دل سے برا نہیں جانتا۔کیونکہ میرا ایمان ہے کہ اگر وہ میرے پاس رہیں گے یا کثرت سے میرے پاس آئیں گے تو خداوند کریم ان کو ضرور منتقی اور پاک صاف کر دیں گے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ رجسٹر نمبر 4 روایت حضرت ماسٹر خلیل الرحمن صاحب صفحہ نمبر 121 تا123 غیر مطبوعہ) پھر ایک روایت حضرت حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی ولد حافظ محمد حسین صاحب سکنہ وزیر آباد، گوجرانوالہ کی ہے، جن کی بیعت 1897ء کی ہے۔یہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ قادیان دار المسیح میں جس مکان میں میاں بشیر احمد صاحب رہتے ہیں جس کا دروازہ مستقف گلی کے نیچے ہے۔اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چند دوستوں کو جمع فرما کر ایک تقریر فرمائی کہ میں نے ہائی سکول اس لئے قائم کیا تھا کہ لوگ وہاں سے علم حاصل کر کے مخلوق خدا کو تبلیغ حق کریں۔مگر افسوس کہ لوگ انگریزی پڑھ کر اپنے کاروبار پر لگ جاتے ہیں اور میر ا مقصود حاصل نہیں ہو تا۔اس لئے میں چاہتا ہوں کہ خالص دینی مدرسہ قائم کیا جائے۔کوئی ہے جو خدا کے لئے اپنے بچے کو اس سکول میں دینی علم حاصل کرنے کے لئے داخل کرے؟ اُس وقت میرا بیٹا عبید اللہ مرحوم سات آٹھ سال کا تھا۔اُن دنوں مفتی محمد صادق صاحب مدرسہ احمدیہ کے ہیڈ ماسٹر تھے۔اتفاق سے وہ لڑکا اس وقت میرے پاس کھڑا تھا۔میں نے اُس کو حضرت صاحب کے سپر د کر دیا۔اور اُس وقت مدرسہ احمدیہ میں ایک فضل دین نامی در میانہ قد ضلع سیالکوٹ کا چیڑ اسی تھا۔حضرت صاحب نے عبید اللہ کو اپنے دستِ مبارک سے پکڑ کر فضل دین کے سپر د کر دیا کہ اس کو احمد یہ سکول میں لے جا کر داخل کرو۔الغرض وہی عبید اللہ اس مدرسہ احمدیہ میں