خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 165 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 165

خطبات مسرور جلد نهم 165 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم اپریل 2011ء پس ہڑتالوں کے بارہ میں بڑے واضح طور پر یہ سارے احکامات سامنے آگئے ہیں۔میں نے پہلے بھی حدیث کی وضاحت میں سورۃ بقرۃ کی آیت 206 کا ایک حصہ سنایا تھا کہ وَاللهُ لاَ يُحِبُّ الْفَسَادَ - اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں کرتا۔جب زبر دستیاں شروع ہوتی ہیں تو فساد پیدا ہوتا ہے۔اس وقت بد قسمتی سے اس فساد کی حالت میں سب سے زیادہ مسلمان ممالک اس کی لپیٹ میں ہیں۔یہ مکمل آیت جو ہے یوں ہے کہ وَإِذَا تَوَلَّى سَعَى فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَ يُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللهُ لاَ يُحِبُّ الْفَسَادَ (البقرة : 206) اور جب وہ صاحب اختیار ہو جائے تو زمین میں دوڑا پھر تا ہے تا کہ اس میں فساد کرے اور فصل اور نسل کو ہلاک کرے جبکہ اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔تو جب ظالم حکمران ہو جاتے ہیں تو وہ دوسروں کی جو مخالفین ہیں اُن کی جائیدادوں کو، اُن کی فصلوں کو، اُن کی نسلوں کو بے دریغ نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔اب یہ پوری آیت جو ہے یہ حکمرانوں کو تنبیہ کر رہی ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ایک عمومی فرمان بھی ہے کہ وَاللهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ۔اس لئے بغاوت کرنے والوں کے لئے بھی یہی حکم ہے۔پس جیسا کہ میں نے شروع میں کہا تھا کہ قرآنِ کریم صرف عوام الناس کو یہ حکم نہیں دیتا بلکہ حکمرانوں کو بھی یہی کہتا ہے کہ اپنے اقتدار پر تکبر کر کے ملک میں فساد پیدا نہ کرو۔عوام کے حقوق تلف نہ کرو۔امیر اور غریب کے فرق کو اتنا نہ بڑھاؤ کہ عوام میں بے چینی پیدا ہو جائے اور اس کے نتیجے میں پھر بغاوت کے حالات پیدا ہوں اور اس طرح تم اپنے اس عمل کی وجہ سے بھی خدا تعالیٰ کی پکڑ میں آؤ۔اب دیکھیں جو حالات سامنے آرہے ہیں، بلا استثناء ہر جگہ یہی آواز اُٹھ رہی ہے کہ قومی دولت لوٹی گئی ہے اور عوام کو اُن کے حقوق سے محروم کیا گیا ہے۔کس قدر بد قسمتی ہے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر نصیحت کی اور تنبیہ فرمائی تھی، انہی میں سے سب سے آگے یہ لوگ ہیں جو آج کل مسلمان ملکوں کے حکمران ہیں ، جو اس قسم کی غلط حرکتیں کر رہے ہیں۔عوام کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری حکمرانوں کی ہے، اُن کی اقتصادیات کی بہتری کی ذمہ داری حکمرانوں کی ہے۔اُن کی صحت کی ذمہ داری حکمرانوں کی ہے اور اس طرح دوسرے بہت سارے حقوق ہیں۔غرضیکہ یہ سب حکومتوں کے کام ہیں۔اُن کو یہ ادا کرنے چاہئیں۔ان کو سر انجام نہ دے کر یہ لوگ فساد پیدا کر رہے ہیں اور فساد اللہ تعالیٰ کی نظر میں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انتہائی ناپسندیدہ ہے۔پس ہمارے حکمرانوں کو اللہ تعالیٰ کے انعاموں کی قدر کرتے ہوئے اُن اصولوں اور اُسوہ پر چلنے کی کوشش کرنی چاہئے جس کی مثالیں ہم دیتے ہیں۔حضرت عمرؓ نے جب حکومت تھی تو کس طرح انصاف قائم فرمایا تھا کہ عیسائی، عیسائیوں کی حکومت دوبارہ قائم ہونے پر رو رو کر یہ دعا کرتے تھے کہ مسلمان دوبارہ ہمارے حکمران بن جائیں۔اور یہاں یہ حال ہے کہ مسلمان رعایا مسلمان حکمرانوں کے خلاف کھڑی ہے کہ انصاف قائم نہیں ہو رہا۔پس اُس تقویٰ کی تلاش کی ضرورت ہے جو آج مسلمانوں میں مفقود ہے، ختم ہو چکا ہے۔حکمران ہیں یا عوام ہیں دونوں اگر اس اصل کو پکڑیں گے تو کامیاب ہوں گے۔بہر حال احمدیوں کے لئے یہ واضح ہدایت ہے کہ اپنے آپ کو