خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 164 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 164

خطبات مسرور جلد نهم 164 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم اپریل 2011ء اب بعض لوگ یہ بھی سوال اُٹھا دیتے ہیں کہ کشمیریوں کے حق میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہندوستان کے مسلمانوں کے ساتھ مل کر جو جلسہ اور جلوس کیا تھا اور اُس کی اجازت دی تھی۔لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ جو طریق تھا یہ بھی وہی طریق ہے جو آج کل حکومت کے خلاف بغاوت ہے اور اس لئے جائز ہے۔حالانکہ یہ ایک باہر کی آواز تھی۔جلوس اور جلسے اُن کے حقوق دلوانے کے لئے تھے۔کوئی لڑائی نہیں تھی۔کوئی توڑ پھوڑ نہیں تھی۔حکومت کو توجہ دلائی گئی تھی کہ کشمیریوں کے جو حقوق غصب کئے جارہے ہیں وہ دیئے جائیں۔اُن کی جائیدادیں اُن کے نام برائے نام ہیں، اور ساری جائیداد کی جو آمد ہے وہ راجہ کے پاس چلی جاتی ہے تو اُن حقوق کی طرف توجہ دلائی گئی تھی کہ اُن کے حقوق اُن کو دلوائے جائیں۔بہر حال حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے 1929ء میں 29 نومبر کی ہڑتال کے متعلق دریافت کیا گیا کہ احمدیوں کا اس کے متعلق کیا رویہ ہونا چاہئے ؟ تو آپ نے فرمایا کہ ” ہڑتال میں شامل نہیں ہونا چاہئے۔ہاں، جلسے اور جلوس وغیرہ میں شامل ہو جانا چاہئے“۔حقوق کے لئے جہاں تک جلسے جلوس کا تعلق ہے ٹھیک ہے کیونکہ اس کی حکومت نے ایک حد تک اجازت دی ہوئی ہے۔لیکن ہڑتال اور دکانیں بند اور توڑ پھوڑ، یہ چیزیں جائز نہیں۔پھر ایک صاحب نے کہا کہ شہروں میں احمدیوں کی دکانیں چونکہ بہت کم ہوتی ہیں اس لئے اگر وہ کھلی رہیں تو حملہ کا خطرہ ہوتا ہے اور لوگ ڈنڈے سے بند کرواتے ہیں“۔اس پر فرمایا کہ "اگر ڈنڈے سے کوئی بند کرائے تو کر دی جائے اور پولیس میں جاکر اطلاع دے دی جائے کہ ہم دکان کھولنا چاہتے ہیں لیکن ہمیں فلاں آدمی نہیں کھولنے دیتے۔اگر پولیس حفاظت کا ذمہ لے تو کھول دی جائے ورنہ نہ سہی“۔ایک صاحب نے عرض کیا کہ کیا ہڑتال قانونا ممنوع ہے؟ تو جواب میں آپ نے فرمایا کہ ” قانون کا سوال نہیں۔یہ یوں بھی ایک فضول چیز ہے جس سے گاہک اور دکاندار دونوں کو نقصان پہنچتا ہے۔اب 29 تاریخ کو جو مسلمان باہر سے لاہور یا اپنے قریبی شہروں میں سودا وغیرہ خریدنے جائیں گے وہ مجبوراً ہندوؤں کی دکانوں سے سودا خریدیں گے (کیونکہ مسلمانوں نے ہڑتال کی ہوئی ہے) جس سے مسلمانوں کو نقصان پہنچے گا۔“ (ماخوذ از اخبار الفضل قادیان مؤرخہ 10 دسمبر 1929ء نمبر 47 جلد 17 صفحہ 6 کالم 1) پھر آپ نے ایک دفعہ فرمایا کہ قانون شکنی کی تلقین کرنے والوں سے ہم کبھی تعاون نہیں کر سکتے۔بعض جماعتیں ایسی ہیں جو بغاوت کی تعلیم دیتی ہیں۔بعض قتل وغارت کی تلقین کرتی ہیں۔بعض قانون کی پابندی کو ضروری نہیں سمجھتیں۔ان معاملات میں کسی جماعت سے ہمارا تعاون نہیں ہو سکتا۔کیونکہ یہ ہماری مذہبی تعلیم کے خلاف امور ہیں۔اور مذہب کی پابندی اتنی ضروری ہے کہ چاہے ساری گورنمنٹ ہماری دشمن ہو جائے اور جہاں کسی احمدی کو دیکھے اُسے صلیب پر لٹکانا شروع کر دے پھر بھی ہمارا یہ فیصلہ بدل نہیں سکتا کہ قانونِ شریعت اور قانونِ ملک کبھی نہ توڑا جائے۔اگر اس وجہ سے ہمیں شدید ترین تکلیفیں بھی دی جائیں تب بھی یہ جائز نہیں کہ ہم اس کے خلاف چلیں“۔الفضل 6 اگست 1935ء جلد 23 نمبر 31 صفحہ 10 کالم 3)