خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 163
خطبات مسرور جلد نهم 163 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم اپریل 2011ء پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ ( البقرۃ: 218)۔۔۔۔۔اور بغاوت کو پھیلانا یعنی امن کا خلل انداز ہونا قتل سے بڑھ کر ہے“۔(جنگ مقدس۔روحانی خزائن۔جلد 6 صفحہ 255 ) فرمایا کہ اولی الامر سے مراد جسمانی طور پر بادشاہ اور روحانی طور پر امام الزمان ہے۔اور جسمانی طور پر جو شخص ہمارے مقاصد کا مخالف نہ ہو اور اُس سے مذہبی فائدہ ہمیں حاصل ہو سکے وہ ہم میں سے ہے“۔(ضرورت الامام۔روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 493) پھر فرمایا کہ ”خدا نخواستہ اگر کسی ایسی جگہ طاعون پھیلے جہاں تم میں سے کوئی ہو تو میں تمہیں ہدایت کرتا ہوں کہ گورنمنٹ کے قوانین کی سب سے پہلے اطاعت کرنے والے تم ہو۔اکثر مقامات میں سنا گیا ہے کہ پولیس والوں سے مقابلہ ہوا۔میرے نزدیک گور نمنٹ کے قوانین کے خلاف کرنا بغاوت ہے جو خطر ناک جرم ہے۔ہاں گورنمنٹ کا بیشک یہ فرض ہے کہ وہ ایسے افسر مقرر کرے جو خوش اخلاق، متدین اور ملک کے رسم و رواج اور مذہبی پابندیوں سے آگاہ ہوں۔غرض تم خود ان قوانین پر عمل کرو اور اپنے دوستوں اور ہمسایوں کو ان قوانین کے ( ملفوظات۔جلد اول۔صفحہ 134۔جدید ایڈیشن) فوائد سے آگاہ کرو۔“ پھر ایک دفعہ کالج میں ، یونیورسٹی میں ایک ہڑتال ہوئی۔اس کے بارہ میں فرمایا کہ ”مفسد طلباء کے ساتھ شمولیت کا جو طریق اختیار کیا ہے یہ ہماری تعلیم اور ہمارے مشورہ کے بالکل مخالف ہے۔لہذا وہ اس دن سے اس بغاوت میں شریک ہے۔“ (یعنی جو بھی اپنے ایک عزیز کے بارے میں فرمایا)۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ۔۔۔جب طلباء نے لاہور میں اپنے پروفیسروں کی مخالفت میں سٹرائیک کیا تھا تو جو لڑکے اس جماعت میں شامل تھے اُن کو میں نے حکم دیا تھا کہ وہ اس مخالفت میں شامل نہ ہوں اور اپنے استادوں سے معافی مانگ کر فوراً کالج میں داخل ہو جاویں۔چنانچہ انہوں نے میرے حکم کی فرمانبرداری کی اور اپنے کالج میں داخل ہو کر ایک ایسی نیک مثال قائم کی کہ دوسرے طلباء بھی فوراداخل ہو گئے۔“ (ملفوظات۔جلد پنجم۔صفحہ 173،172۔جدید ایڈیشن) حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کی اس بارہ میں کیا وضاحت ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ " ہر ایک مسلمان کے لئے اطاعت اللہ و اطاعت الرسول و اطاعت اولی الامر ضروری۔اگر اولی الامر صریح مخالف فرمانِ الہی اور فرمانِ نبوی کی کرے تو بقدر برداشت مسلمان اپنی شخصی و ذاتی معاملات میں اولی الامر کا حکم نہ مانے یا اُس کا ملک چھوڑ دے۔اَطِيْعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمُ صاف نصّ ہے۔أُولِي الامر میں حکام و سلطان اول ہیں اور علماء و حکماء دوم درجہ پر ہیں“۔( البدر نمبر 8۔جلد 9۔16 دسمبر 1909ء۔صفحہ 4 کالم 2)