خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 154
154 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم اپریل 2011ء خطبات مسرور جلد نهم جواب چاہتے ہیں کہ ہم پر یہ واضح کریں کہ ہم سختی سے اپنے حق کو حاصل کرنے کی مہم میں حصہ لے سکتے ہیں یا نہیں ؟ اور کس حد تک ظلموں کو برداشت کریں۔اس سلسلے میں میں نے جو عرب ممالک ہیں یا افریقن عربی بولنے والے جو ممالک ہیں اور جنہیں ہمارا عربک ڈیسک ڈیل کرتا ہے ، اُن کے بارہ میں عربک ڈیسک کے ساتھ اور ہانی طاہر صاحب کے ساتھ میٹنگ کی تھی۔انہیں بڑا واضح طور پر ، بڑا تفصیلی طور پر سمجھایا تھا کہ ان حالات میں ایک احمدی کارڈ عمل اور کردار کیا ہونا چاہئے؟ دونوں طرف کے اچھے اور بُرے پہلو کیا ہوں گے ؟ اس طرف ہمیں نظر رکھنی چاہئے۔اور پھر یہی میں نے کہا تھا کہ یہ باتیں قلمبند کر کے جو بھی متعلقہ ملک ہیں یا ہمارے وہ لوگ جن کا ان سے رابطہ رہتا ہے اُن تک یہ پہنچائیں تا کہ احمدی کو حقیقی صورت حال کی سمجھ آجائے۔لیکن بعض خطوط اور سوالات سے مجھے لگتا ہے کہ بعض لوگوں کو جماعت احمدیہ کے نقطہ نظر جس کی بنیاد قرآن اور حدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات پر ہے اُس کی واضح طور پر سمجھ نہیں آئی۔اسے واضح کرنے کی ضرورت ہے۔اس لئے میں نے اس بارہ میں کچھ مواد جمع کروایا ہے، کچھ باتیں اکٹھی کی ہیں جو آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں تا کہ ہر قسم کے ابہام دور ہو جائیں۔سب سے بنیادی چیز قرآنِ کریم ہے۔اس میں بھی ہمیں دیکھنا ہے کہ قرآنِ کریم حکمرانوں کے ساتھ تعاون اور اطاعت کے بارے میں کیا حکم دیتا ہے۔پھر یہ کہ عمومی فسادات میں ایک مسلمان کا رد عمل کیا ہونا چاہئے۔کس حد تک اُس کو اپنا حق لینے کے لئے حکومت کے خلاف مہم میں حصہ لینا چاہئے۔پھر احادیث کیا کہتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا ارشاد فرمایا۔بہر حال اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے کہ وَ يَنْھی عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ (النحل: 91) یہ حصہ آیت جو ہے ہم ہر جمعہ کو عربی خطبہ میں پڑھتے ہیں۔اور اس کے معنے یہ ہیں کہ ہر قسم کی بے حیائی، ناپسندیدہ باتوں اور بغاوت سے تمہیں اللہ تعالیٰ روکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ”بغی“ کے لفظ کی وضاحت کی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ ”بغی اس بارش کو کہتے ہیں جو حد سے زیادہ برس جائے اور کھیتوں کو تباہ کر دے“۔فرمایا ” حق واجب میں کمی رکھنے کو بغی کہتے ہیں اور یا حق واجب سے افزونی ( زیادتی) کرنا بھی بغی ہے۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد نمبر 10 صفحہ 354) تو یہ ہے قرآنِ کریم کے احکامات کی خوبصورت تعلیم کہ ہر پہلو اور ہر طبقے کے لئے حکم رکھتا ہے۔اس حکم میں یہ خیال نہیں آسکتا کہ ایک طبقے کو حکم ہے اور دوسرے طبقے کو نہیں ہے۔اس آیت کی مکمل تفسیر تو اس وقت بیان نہیں کر رہا، صرف بغاوت کے لفظ کی ہی وضاحت کرتا ہوں۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے ، حق واجب میں کمی کرنے اور حق واجب میں زیادتی کرنے دونوں سے اللہ تعالیٰ روکتا ہے۔یعنی جب حاکم اور محکوم کو حکم دیا جاتا ہے تو دونوں کو اپنے فرائض کی ادائیگی کا حکم دیا جاتا ہے۔نہ حاکم اپنے فرائض اور اختیارات میں کمی یا زیادتی کریں، نہ عوام اپنے فرائض میں کمی یا زیادتی کریں۔اور جو بھی یہ کرے گا اللہ تعالیٰ کی حدود کو توڑنے