خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 155
155 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم اپریل 2011ء خطبات مسرور جلد نهم والا ہو گا اور خدا تعالیٰ کی حدود کو توڑنے والا پھر خدا تعالیٰ کی گرفت میں بھی آسکتا ہے۔اللہ تعالیٰ کو نہایت نا پسند ہے۔پس آج کل چونکہ عوام حکومتوں کے خلاف سختی سے قدم اٹھانے کا جوش رکھتے ہیں اس لئے عوام کی حد تک آج بات کروں گا۔اس بارے میں کئی احادیث ہیں جو حکمرانوں کے غلط رویے کے باوجود عوام الناس کو، مومنین کو صبر کی تلقین کا حکم دیتی ہیں۔بخاری کتاب الفتن کا ایک باب ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا انصار سے یوں فرمانا کہ تم میرے بعد ایسے ایسے کام دیکھو گے جو تم کو بُرے لگیں گے۔اور عبد اللہ بن زید بن عامر نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے یہ بھی فرمایا: تم ان کاموں پر حوض کوثر پر مجھ سے ملنے تک صبر کئے رہنا۔( بخاری کتاب الفتن باب قول النبی صلی یکم سترون بعدی اموراً تنكرونها) زید بن وہب نے کہا کہ میں نے عبد اللہ بن مسعودؓ سے سنا۔وہ کہتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: تم میرے بعد دیکھو گے کہ تمہاری حق تلفی کر کے دوسروں کو ترجیح دی جارہی ہے۔نیز ایسی باتیں دیکھو گے جن کو تم بُرا سمجھو گے۔یہ سن کر صحابہ نے عرض کی کہ یارسول اللہ ! پھر ایسے وقت میں آپ کیا حکم دیتے ہیں۔فرمایا: اس وقت کے حاکموں کو اُن کا حق ادا کرو اور تم اپنا حق اللہ سے مانگو۔ها الله (بخاری کتاب الفتن باب قول النبى الله الله سترون بعدی اموراً تنكرونها حديث 7052) پھر ایک حدیث میں آتا ہے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: جو شخص اپنے امیر کی کسی بات کو نا پسند کرے تو اس کو صبر کرنا چاہئے۔اس لئے کہ جو شخص اپنے امیر کی اطاعت سے بالشت برابر بھی باہر ہو تو اس کی موت جاہلیت کی سی موت ہو گی۔(بخاری کتاب الفتن باب قول النبى الله الله سترون بعدی اموراً تنكرونها حديث 7053) پھر اُسید بن حضیر سے روایت ہے کہ ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔کہنے لگا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) آپ نے فلاں شخص کو حاکم بنادیا اور مجھ کو حکومت نہیں دی۔آپ نے فرمایا: تم میرے بعد دیکھو گے کہ تم پر دوسروں کو ترجیح دی گئی ہے۔پس تم قیامت کے دن مجھ سے ملنے تک صبر کئے جاؤ۔(بخارى كتاب الفتن باب قول النبي عل الله سترون بعدی امورا تنكرونها حديث 7057) سلمہ بن یزید الجعفی نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی۔یا رسول اللہ ! اگر ہم پر ایسے حکمران مسلط ہوں جو ہم سے اپنا حق مانگیں مگر ہمارا حق ہمیں نہ دیں تو ایسی صورت میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعراض کیا۔اُس نے اپنا سوال پھر دہرایا۔آپ نے پھر اعراض کیا۔اُس نے دوسری یا تیسری دفعہ پھر اپنا سوال دہرایا۔جس پر اشعث بن قیس نے انہیں پیچھے کھینچا ( یعنی خاموش کروانے کی کوشش کی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سوال پسند نہیں آیا )۔تب رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے حالات میں اپنے حکمرانوں کی بات سنو اور اُن کی اطاعت کرو۔جو ذمہ داری اُن پر ڈالی گئی ہے اُس کا مواخذہ اُن سے ہو گا اور جو ذمہ داری تم پر ڈالی گئی ہے اس کا مؤاخذہ تم سے ہو گا۔(مسلم كتاب الامارة باب فى طاعة الامراء وان منعوا الحقوق حديث 4782)