خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 150
150 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 مارچ 2011ء خطبات مسرور جلد نهم کاموں کے بعد جب وقت میسر ہو تا تو خود اس کارکن کے پاس جو مربی صاحب تھے آجاتے ، اور پھر نئے نئے ٹاپکس (Topics) پر تحقیق کرتے۔کہتے تھے کہ ہمیں نوجوانوں کی ایک ٹیم بنانی چاہئے جو ہر ماہ شہر سے باہر کھلے دیہات میں جا کر نیا چاند تلاش کرے اور ایک ڈیٹا بیس (Database) بنائے جس میں ہر ماہ کا چاند کب دیکھا گیا اس کو نوٹ کرے کیونکہ یہ چیز سائنس ہمیں نہیں بتا سکتی کہ چاند آنکھوں سے کب نظر آئے گا۔اور اس ریکارڈ کو اگر ہم محفوظ رکھیں تو کئی اعتراضات کے جوابات نکلیں گے۔ان کی اپنی ایک سوچ تھی جس پر وہ غور کیا کرتے تھے۔کہتے تھے کہ آنکھوں سے چاند کا مشاہدہ کرنا بہت ضروری ہے۔مسلمانوں نے جس قدر حساب میں ترقی کی اس کی وجہ چاند کا مشاہدہ ہی تھا۔قرآنِ مجید میں بھی اللہ تعالیٰ نے چاند کی گردش کے متعلق فرمایا ہے کہ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السَّنِينَ وَ الْحِسَابَ (یونس: 6)۔تو کہتے چاند کو ضرور آنکھوں سے دیکھنا چاہئے۔راتوں کو اکثر ستاروں کا مشاہدہ کرتے اور کہتے که فرانس کا ایک بڑا سا ئنس دان تھاوہ بھی یہی کہتا تھا کہ ستاروں سے صرف وہی روشنی نہیں آتی جو ہماری آنکھوں کو منور کرتی ہے بلکہ ان سے ایک ایسی روشنی بھی آتی ہے جو ہمارے دماغوں کو منور کرتی ہے۔چنانچہ قرآن مجید کے حکم کے مطابق ہمیشہ زمین و آسمان کی پیدائش پر غور کرنے والے تھے ، اولوالالباب میں سے تھے۔آپ کے دادا احمدی ہوئے تھے اور ان کا بھی احمدی ہونے کا واقعہ عجیب ہے ، کہتے ہیں کہ میں کاروباری آدمی تھا د نیا دار آدمی تھا، دین سے کوئی رغبت نہیں تھی۔ایک دن ریویو آف ریلیجنز رسالہ میرے پاس آیا اور اس پر ساتھ یہ بھی تھا کہ اس کے لئے اشتہار دیں، تو اس پر میں نے اسلامی اصول کی فلاسفی“ کا اشتہار بھی دیکھا۔وہ کتاب میں نے منگوا کر پڑھی اور پھر یوں ہوا جیسے سارے اند ھیرے چھٹ گئے۔اس کے بعد ان کے دادا بھی کہتے ہیں کہ میرے پر ایسا انقلاب آیا ہے کہ میں روزے بھی رکھنے لگ گیا، نفلی روزے بھی رکھنے لگ گیا، نمازوں اور تہجد کی طرف بھی توجہ پیدا ہو گئی۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک خواب دیکھی تھی اور اس پر انہوں نے اُس کی تعبیر یہ کی تھی، کیونکہ ان سیٹھ صاحب کا ان کے دادا کا تعلق حضرت مفتی صادق صاحب اور یعقوب علی صاحب عرفانی اور حافظ روشن علی صاحب کے ساتھ تھا، انہوں نے حضرت مصلح موعودؓ کے پاس ان کا ذکر کیا، تو اس لحاظ سے تعارف تھا۔تو حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ میں نے ایک خواب دیکھی ہے کہ یہ احمدیت قبول کریں گے اور عظیم الشان روحانی فیض اور خدمت کی توفیق پائیں گے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے بیعت کر لی۔حضرت مصلح موعود نے ان کے دادا کا بھی ذکر فرمایا ہے۔یہ پر انا خاندان ہے اس کا بھی ذکر کر دیتا ہوں کہ ”متواتر سلسلہ کی خدمت میں اُن کا نمبر غالباً سب سے بڑھا ہوا ہے ، ان کی مالی حالت میں جانتا ہوں ایسی اعلیٰ نہیں جیسی کہ بعض لوگ اُن کی امداد کو دیکھ کر سمجھ لیتے ہیں۔لیکن ان کو خدا تعالیٰ نے نہایت پاکیزہ دل دیا ہے۔اور مجھے ان کی ذات پر خصوصاً اس لئے فخر ہے کہ ان کے سلسلہ میں داخل ہونے کے وقت اللہ تعالیٰ نے مجھے اُن کے اخلاص کے متعلق پہلے سے اطلاع دی تھی حالانکہ میں نے اُن کو دیکھا بھی نہ تھا۔میں دیکھتا ہوں کہ وہ سلسلہ کے درد میں