خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 149
خطبات مسرور جلد نهم 149 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 مارچ 2011ء ان کو میں نے صدر صد را منجمن احمد یہ بنایا تو کہتے ہیں اس وقت میں نے تاریخ احمدیت پڑھی تو مجھے معلوم ہوا کہ صدر انجمن احمدیہ کے پہلے صدر حضرت خلیفۃ المسیح الاول تھے اور عرفانی صاحب کی خواب اس طرح ایک لمبے عرصے کے بعد پوری ہوئی۔قرآن شریف سے ان کو بڑا تعلق تھا، اور قرآنِ شریف خود بڑی ہمت کر کے انہوں نے حفظ کیا ہے، سکول کے ایک امتحان کی تیاری تھی کہتے ہیں کہ صبح پرچہ تھا تو میری والدہ نے کہا کہ بیٹے پرچے کی تیاری کر لو۔لیکن میں قرآنِ کریم کو پڑھ رہا تھا اور وہی یاد کرتارہا۔انہوں نے خود ہی گھر پہ قرآنِ کریم حفظ کیا۔قرآنِ کریم لے کر اپنے گھر میں نیچے basement میں چلے جاتے تھے اور وہاں یاد کرتے رہتے تھے۔پھر ان کی والدہ نے جب ان کا شوق دیکھا تو پھر ان کے لئے ، قرآن حفظ کرانے کے لئے ایک معلم رکھا گیا۔خلافت کی کامل اطاعت تھی اور بڑی جانثاری کا جذبہ تھا۔درویشان قادیان سے بہت عقیدت رکھتے تھے۔جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا ہے ہر مشکل میں نفل اور دعا میں لگ جاتے تھے۔بے نفس، بے ضرر، تہجد گزار قرآن کریم کی آیات زیر لب تلاوت کرتے رہتے۔مسجد اقصیٰ میں جلسہ سالانہ کے ایام میں تہجد کی امامت بھی کرواتے تھے۔ہمیشہ دینی مجالس میں بیٹھنا پسند کیا۔دنیا سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ایک مربی صاحب نے مجھے لکھا پرانی بات ہے کہ ایک دفعہ اپنے کسی عزیز رشتہ دار کی شادی میں شامل ہونے کے لئے گئے تو جب نکاح کا اعلان ہونے لگا تو ان کے دنیاوی مقام کی وجہ سے بھی اور خاندانی بزرگی کی وجہ سے بھی اِن کو انہوں نے کہہ دیا کہ نکاح آپ پڑھائیں۔اس پر بڑے سخت ناراض ہوئے کہ تم لوگ مربیوں کا احترام نہیں کرتے، واقفین زندگی کا احترام نہیں کرتے ؟ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ مربی یہاں موجود ہے اور میں نکاح پڑھاؤں آئندہ اگر ایسی بات کی تو میں تمہاری شادی میں شامل نہیں ہوں گا۔ہمارے ایک مربی ہیں انہوں نے لکھا کہ 2008ء کو جب جوبلی کے جلسے پر عہد خلافت لیا، تو اس کے بعد سے ان کی حالت ہی اور ہو گئی تھی، ہر وقت تبلیغ کے لئے کوشاں رہتے۔اپنے نئے اور پرانے جاننے والوں سے بھی دوبارہ contact کئے ، اور اپنا ای میل ایڈریس بنوایا اور پھر اُن سے رابطہ کرناشروع کیا۔پھر قادیان آنے کی انہیں دعوت بھی دیتے رہے جو اُن کے سائنسدان تھے۔ضعیفی کی حالت میں بھی کمزوری کے باوجود دہلی میں سائنسدانوں کی میٹنگ میں بھی صرف اس غرض سے تشریف لے گئے تھے کہ اُن سے رابطے ہوں گے اور اُن کو جماعت کا لٹریچر دیا، اور کئی پر وفیسر صاحبان سے گھر ملنے گئے اور اُن کو قادیان آنے کی دعوت دی۔2008ء میں جب یو این او کی جانب سے انٹر نیشنل ایئر آف اسٹرانومی منایا گیا تو بنگلور گئے اور وہاں اُن لوگوں کے سامنے قرآنِ مجید اور سائنس کے موضوع پر ضعیفی کے باوجود بڑی لمبی اور نہایت عالمانہ تقریر کی۔اور اس کے بعد پھر کئی پر وفیسر صاحبان سے رابطے کئے۔سورج گرہن پر ایک مرتبہ تحقیق کر کے چھوڑ نہیں دیتے تھے بلکہ ہمیشہ مزید سے مزید تحقیق میں لگے رہتے تھے۔یہ لکھنے والے لکھتے ہیں کہ ان کو اتنا کمپیوٹر چلانا نہیں آتا تھا میرے سے مدد لیا کرتے تھے ، اور انجمن کے