خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 148
خطبات مسرور جلد نهم 148 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 مارچ 2011ء دیا۔دین میں بھی آپ کی تاریخی خدمات کافی ہیں۔آپ نے امام مہدی کی صداقت کے دو عظیم نشان چاند اور سورج گرہن تحریر فرمائی۔صداقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام از روئے نشان سورج چاند د گرہن “ ، ” نشانات سورج گرہن اور چاند گرہن “ ، ”ہمارا خدا، The dynamics of colliding Galaxies, The dynamics of stallers system, The Goal of the Man and the way to reach it, وو ,Views of scientists on the existing of God اس قسم کی کتابیں بھی آپ نے لکھیں۔مختلف حیثیتوں سے جماعت کی خدمات کرتے رہے، سالہا سال تک صوبائی امیر بھی رہے ، سیکرٹری بھی رہے ، صدر جماعت بھی رہے ، ممبر صدر انجمن احمد یہ بھی رہے اور جیسا کہ میں نے کہا ہے ریٹائر منٹ کے بعد کچھ عرصہ پہلے قادیان آ گئے تھے۔پھر صدر صدر انجمن احمد یہ بھی ان کو میں نے مقرر کیا تھا۔تعلق باللہ بھی اللہ تعالیٰ سے ان کا بڑا تھا۔ان کی اہلیہ نے ایک دفعہ بتایا، پاکستان آئے تو کراچی ائیر پورٹ پر کسٹم والوں نے الیکٹرونک کی بعض جو چیز میں تھیں وہ روک لیں، بڑی پریشانی کا سامنا تھا۔جائز تھیں، ناجائز کام تو یہ کر ہی نہ سکتے تھے، لیکن ہمارے ہاں جو سفر کرنے والے ہیں ان کو پتہ ہے کسٹم والوں کا کہ کس طرح روک لیا کرتے ہیں۔تو بہر حال ان کی اہلیہ کہتی ہیں تھوڑی دیر بعد میں نے دیکھا تو صالح الہ دین صاحب غائب تھے۔میں پریشان ہوئی کہ کہاں چلے گئے ہیں، کچھ دیر بعد واپس آئے تو میں نے پوچھا کہ اس پریشانی کے وقت میں کہاں گئے تھے ، تو کہنے لگے میں نے سوچا کہ اس صورت حال میں خدا ہی ہے جو مدد کر سکتا ہے، چنانچہ میں ایک طرف دو رکعت نفل ادا کرنے چلا گیا ہے۔اب نماز پڑھ آیا ہوں چلو اب چلیں اور اب ہمیں چیزیں مل جائیں گی۔چنانچہ بڑے اعتماد سے کسٹم والوں کے پاس گئے۔اس عرصہ میں کسٹم کا عملہ تبدیل ہو چکا تھا انہوں نے معذرت بھی کی اور ان کی چیزیں بھی ان کو دے دیں۔تو ایسی صورت حال میں کوئی اور ہو تا تو سفارشوں کے پیچھے جاتا یا پریشان ہوتا ہے۔یہ صرف اللہ تعالیٰ کے حضور جھکے۔ڈاکٹر نصرت جہاں ان کی اہلیہ کی بہن ہیں، یہ مولوی عبد المالک خان صاحب کے داماد بھی تھے۔وہ کہتی ہیں جب میں قادیان گئی تو میں نے دیکھا کہ اپنی بیماری کی وجہ سے مسجد نہیں جاسکتے تھے ، اس کا بہت اُن کو دُکھ تھا۔اس کا اظہار کرتے تھے کہ میں مسجد نہیں جاسکتا اور تم لوگ وہاں جا کر نمازیں پڑھتے ہو۔یہ کہتی ہیں مجھے انہوں نے بتایا اور مجھے اس بارے میں اور روایتیں بھی ملی ہیں ، دوسروں سے بھی اس کا ذکر کیا ہے کہ چھبیس سال کی عمر کا ہوں گا کہ ایک دن حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کی خدمت میں حاضر ہوا۔میں اندر داخل ہوا ہی تھا تو آپ فرمانے لگے کہ ابھی یا آج ہی میں نے خواب میں حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا ہے وہ تشریف لائے ہیں تو ( عرفانی صاحب نے کہا) نے کہا کہ انہوں نے خواب میں دیکھا تھا کہ آپ حضرت مولوی نورالدین صاحب کی کرسی پر بیٹھے ہیں۔خلیفہ المسیح الاول تشریف لائے وہ بیٹھے تھے کہ پھر انہوں نے ان کو کرسی پر بٹھا دیا۔تو یہ کہتے ہیں کہ میں نے سوچا کہ کہاں میں اور کہاں حضرت خلیفتہ المسیح الاول۔یوں بات آئی گئی ہو گی۔کہتے ہیں کہ جب وہ قادیان میں آئے تو اس وقت کچھ عرصے کے بعد صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب کی وفات کے بعد