خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 147 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 147

خطبات مسرور جلد نهم 147 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 مارچ 2011ء ضمانت ہے۔نہ کہ وہ عمل جو ظالم امریکی پادری نے قرآنِ کریم کی توہین کر کے کیا ہے۔ایسے لوگ یقینا خدا تعالیٰ کے عذاب کو آواز دینے والے ہیں۔پس ہمارا کام یہ ہے کہ جب بھی ہم اسلام، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم پر دشمنوں کے غلیظ حملوں کو دیکھیں تو سب سے پہلے اپنے عملوں کو صحیح اسلامی تعلیم کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں، پھر معاشرے میں اس خوبصورت تعلیم کا پر چار کریں اور اس کے لئے جو ذرائع بھی میسر ہیں انہیں استعمال کیا جائے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔اس وقت میں سلسلے کے ایک عالم اور بزرگ کا بھی ذکر کرنا چاہتا ہوں جو حافظ قرآن بھی تھے جن کو قرآن سے خاص تعلق تھا۔دنیاوی تعلیم بھی پی ایچ ڈی تھی اور اسٹرانومی میں انہوں نے بڑا نام پیدا کیا ہے لیکن سائنس کو ہمیشہ قرآن کے تابع رکھا ہے۔گزشتہ دنوں ان کی وفات ہوئی، اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔ان کا نام حافظ صالح محمد الہ دین صاحب تھا۔گذشتہ تقریباً چار سال سے یہ قادیان کی انجمن احمدیہ کے صدر تھے اور صدر صدر انجمن احمدیہ کے علاوہ اس سے پہلے یہ کافی عرصہ ممبر انجمن احمد یہ بھی رہے ہیں۔عثمانیہ یونیورسٹی سے انہوں نے فزکس میں ایم ایس سی کی تھی۔پھر بعد میں انہوں نے امریکہ سے اسٹرانومی ، ایسٹر و فزکس میں پی ایچ ڈی کی۔1963ء میں Observatory University of Chicago USA سے انہوں نے پی ایچ ڈی کی۔اور بڑی خصوصیات کے حامل تھے ، علمی لحاظ سے ان کے قریباً پچاس مضامین اور ریسرچ پیپر بین الا قوامی رسالوں میں شائع ہوئے ہیں اور جن پر کئی ایوارڈز بھی ان کو ملے ہیں۔چنانچہ ہندوستان کا مشہور ایوارڈ مگناد سہا Megnanad) (Saha ایوارڈ فار ٹھیوریٹیکل سائنس 1981ء میں آپ کو دیا گیا ہے۔جب میں ان کی تاریخ دیکھ رہا تھا اس کے علاوہ بے تحاشا ایوارڈ ان کو ملے ہیں۔لیکن عاجزی انتہا کو پہنچی ہوئی تھی۔Lunar and Solar Eclipses اور Dynamic of galaxies آپ کے پسندیدہ مضمون تھے جن میں قرآن اور احادیث میں سورج چاند گرہن بطور صداقت حضرت مسیح موعود اور امام مہدی بیان ہوا ہے۔چنانچہ اس کے بارہ میں آپ مختلف جلسوں پر تقریریں بھی کرتے رہے۔یو کے میں بھی تقریر کی تھی۔قادیان میں بھی کرتے تھے۔1994-95ء میں اس نشان پر صد سالہ پروگرام کے تحت کئی جماعتی رسائل میں آپ کے مضامین بھی شائع ہوئے۔2009ء میں بھی ”ہستی باری تعالیٰ فلکیات کی روشنی میں آپ نے تقریر کی ، بڑی پر مغز، بڑی علمی تقریر تھی۔اور اپنے سائنسی مضامین کا ہمیشہ قرآنی آیات سے استدلال کیا کرتے تھے۔جو بھی اپنے سائنسی مضامین تھے اُن کا ہمیشہ قرآنی آیات سے استدلال کرتے تھے اور اس میں ان کو بڑا ملکہ تھا۔اور اس طرف ان کا طبعی میلان بھی تھا۔مختلف یونیورسٹیز کے ریسرچ سکالر اور ریسرچ فیلو بھی تھے۔یہ لمبی ایک فہرست ہے بتائی نہیں جاسکتی۔پھر ,Great minds of the 21st century 2003 American biographical institute Raleigh U۔SA نے ان کو 2003ء میں ایوارڈ بھی