خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 146 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 146

خطبات مسرور جلد نهم 146 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 مارچ 2011ء اس قرآنِ کریم کی تعلیم کی ، اور کس طرح آپ نے موازنہ پیش کیا ہے۔پھر اسلام نے جتنا انصاف پر زور دیا ہے کسی اور کتاب نے نہیں دیا۔مثلاً ایک جگہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَا يَنْكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَ تُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (الممتحنة: 9) اور اللہ تمہیں ان سے منع نہیں کرتا یعنی اس بات سے ، لوگوں سے منع نہیں کرتا جنہوں نے تم سے دین کے معاملہ میں قتال نہیں کیا اور نہ تمہیں بے وطن کیا کہ تم ان سے نیکی کرو اور اُن سے انصاف کے ساتھ پیش آؤ، یقینا اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔جو تم سے ڈرتے نہیں، تمہیں نقصان نہیں پہنچار ہے ، اُن سے قطع تعلق کرنے سے یا اُن سے نیکی کرنے سے ، یا اُن کو انصاف مہیا کرنے سے اللہ تعالیٰ تمہیں منع نہیں کرتا۔پھر فرمایا: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوْمِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اِعْدِلُوا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرًا بِمَا تَعْمَلُونَ (المائدة : 9) کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کی خاطر مضبوطی سے نگرانی کرتے ہوئے انصاف کی تائید میں گواہ بن جاؤ، اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہر گز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔انصاف کرو۔یہ تقویٰ کے سب سے زیادہ قریب ہے۔اور اللہ سے ڈرو یقینا اللہ اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے جو تم کرتے ہو۔پھر فرماتا ہے : وَ اعْبُدُوا اللهَ وَ لَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَ بِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَى وَ b الْمَسْكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا (النساء: 37) اور اللہ کی عبادت کرو اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ احسان کرو اور قریبی رشتہ داروں سے بھی، اور یتیموں سے بھی، اور مسکین لوگوں سے بھی، اور رشتہ دار ہمسایوں سے بھی، اور غیر رشتہ دار ہمسایوں سے بھی، اور اپنے ہم جلیسوں سے بھی، اور مسافروں سے بھی، اور اُن سے بھی جن کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہوئے۔یقینا اللہ اس کو پسند نہیں کر تاجو متکبر اور شیخی بگھارنے والا ہے۔اب ان آیات میں پہلے وہ کفار جو دشمنی نہیں کرتے اُن سے نیکی اور انصاف کا حکم ہے۔پھر سورۃ مائدہ کی آیت ہے اس میں فرمایا دشمنوں سے بھی عدل اور انصاف کرو کہ دشمنی کی بھی کچھ حدود اور قیود ہوتی ہیں۔دشمن اگر کمینی اور ذلیل حرکتیں کر رہا ہے تو تم انصاف سے ہٹ کر غیر ضروری دشمنیاں نہ کرو۔جرم سے بڑھ کر سزا نہ دو۔جیسے گندے اخلاق وہ دکھا رہا ہے تم بھی ویسے نہ دکھانے لگ جاؤ۔پھر تیسری آیت جو سورۃ نساء کی آیت ہے اس میں والدین سے لے کر ہر انسان سے احسان کے سلوک کا ارشاد فرمایا ہے۔یعنی کل انسانیت سے حسن سلوک کرو اور احسان کرو تا کہ دنیا میں امن قائم ہو۔تو امن کے قیام کے لئے، ایک پر امن معاشرے کے لئے یہ اعلیٰ تعلیم ہے جو قرآنِ کریم نے ہمیں دی ہے اور یہی آج امن کی