خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 9 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 9

خطبات مسرور جلد نهم 9 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 جنوری 2011ء اور ادھار لیتا تھا۔مگر آج اللہ تعالیٰ نے میری حالت کو یکسر بدل دیا ہے اور چندہ ادا کرنے کی برکت سے میں اس قابل ہوا ہوں کہ لوگوں کو ادھار رقوم دیتا ہوں۔پہلے لوگ میرے در پر مجھ سے اپنی رقوم لینے آتے تھے مگر آج امام مہدی علیہ السلام کی برکت سے لوگ میرے در پر مددمانگنے آتے ہیں۔نائیجر ، ایک غریب اور پسماندہ ملک ہے، ان لوگوں کو لینے کی عادت تو ہے، دینے کی نہیں۔لیکن خدا تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ جہاں بھی تبلیغ کی جاتی ہے وہاں مالی قربانی کے نظام کے بارہ میں بتایا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں لوگ مالی قربانی کی طرف توجہ کر رہے ہیں۔کئی دیہات ایسے ہیں جہاں پہلی دفعہ تبلیغ کی اور انہوں نے پہلے ہی دن کچھ نہ کچھ چندہ دیا۔مبلغ لکھتے ہیں کہ امسال خدا تعالیٰ کے فضل سے وقف جدید کی مالی قربانی میں نائیجر کی سو فیصد جماعتیں شامل ہو چکی ہیں۔اور گزشتہ سال وقف جدید میں شاملین کی تعداد ایک ہزار چار سو اٹھہتر تھی جبکہ امسال یہ تعداد بڑھ کے سترہ ہزار سات سوچھ ہے۔یعنی وقف جدید میں سولہ ہزار دو سو اٹھائیس (16,228) نومبائعین کا اضافہ ہوا ہے۔افریقہ میں صرف چندہ ہی نہیں بلکہ وہاں کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت بڑھ کر دوسری مالی قربانیاں کرنے کی بھی توفیق مل رہی ہے۔لیگوس کے ایک مخلص احمدی ہیں الحاجی ابراہیم الحسن، انہوں نے اپنا نیا گھر بنایا اور اس سے ملحق ایک مسجد اور تین فلیٹ پر مبنی ایک عمارت بنائی۔مسجد کے بارہ میں ان کا ارادہ تھا کہ وہ اس کو جماعت کے حوالہ کر دیں گے۔کہتے ہیں کہ ابھی میں اپنے اس نئے گھر میں شفٹ نہیں ہوا تھا کہ ایک رات خواب میں دیکھا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الاول میرے اس نئے گھر میں تشریف لائے ہیں اور آپ کے بعد خلیفہ ثانی اور خلیفہ ثالث اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع اور خلیفہ خامس سب تشریف لائے اور سب سے آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے۔آمد کے بعد حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یہی اس گھر کے افتتاح کی تقریب ہے اور کوئی افتتاح کی تقریب نہیں ہو گی۔اس کے بعد مسجد سے ملحق عمارت جس میں تین فلیٹس بنائے تھے اُن میں سے ایک فلیٹ میں آپ علیہ سلام تشریف لے گئے اور فرمایا کہ یہ بھی مسجد کے ساتھ ہی جماعت کو دے دیں۔کہتے ہیں کہ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی اور میں نے ارادہ کر لیا کہ فلیٹ بھی مسجد کے ساتھ ہی جماعت کو بطور مشن ہاؤس دے دوں گا۔چنانچہ انہوں نے یہ مسجد اور سارے فلیٹس بطور مشن ہاؤس جماعت کو دے دیئے ہیں جس کی کل مالیت نوے ہزار پاؤنڈ بنتی ہے۔ٹوگو کے مبلغ لکھتے ہیں کہ نوچے ریجن کے ایک گاؤں میں جہاں کچھ عرصہ قبل احمدیت کا نفوذ ہوا تھا چندے کا آغاز ایک عجیب واقعہ سے ہو ا۔مخالفین وہاں پر بہت سا سامان اور پیسے لے کر گئے کہ ان کو دے کر احمدیت سے الگ کیا جائے۔یہ ایک غریب گاؤں ہے اور لوگ کھیتی باڑی کرتے ہیں۔مخالفین نے ان سے کہا کہ ہم آپ کے لئے پیسے لے کر آئے ہیں جبکہ احمدی آپ سے چندہ مانگتے ہیں اور یہ سارے پیسے اکٹھے کر کے ان سے کاروبار کرتے