خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 143
143 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 مارچ 2011ء خطبات مسرور جلد نهم کے ذریعہ سے جو آپ پر اتری، دنیا کی انتہائی بگڑی ہوئی حالت میں ایک انقلاب پیدا کر دیا۔وہ لوگ جو جاہل اور ذرا ذراسی بات پر جانوروں کی طرح ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو جاتے تھے ، ان پر خوبصورت آیات تلاوت کیں۔انہیں اس خوبصورت تعلیم کے ذریعہ سے پاک کیا۔جاہل اور اُجڈ لوگوں کو پر معارف اور پر حکمت تعلیم سے مالا مال کر دیا۔انہیں اس خوبصورت کتاب سے جو واحد الہی صحیفہ ہے جس نے تا قیامت تمام علوم و حکمت کی باتوں کا احاطہ کیا ہوا ہے ، اس سے روشناس کروایا۔جس سے جانوروں کی طرح زندگی گزارنے والے انسان بنے اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے یہ لوگ انسان بنے اور پھر انسان سے تعلیم یافتہ انسان بنے اور پھر یم یافتہ انسان سے باخدا انسان بنے۔اس دور میں اب پھر ہم پر اللہ تعالیٰ نے یہ احسان فرمایا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کو بھیجا ہے تا کہ آیات پڑھ کر سنائے۔الہی نشانات سے ہماری روحانیت میں اضافہ کرے، ہمارے ایمان اور یقین میں اضافہ کرے، ہماری زندگیوں کو صحیح رہنمائی کرتے ہوئے پاک کرے، ہمیں اس الہی کتاب کی حقیقت اور اس کے اسرار سے آگاہ کرے، ہمیں بتائے کہ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ وَ لَا يَزِيدُ الظَّلِمِينَ إِلَّا خَسَارًا (بنی اسرائیل: 83) کہ یہ شفاء اور رحمت ہے مومنین کے لئے۔یہ عظیم کتاب ہمارے لئے شفا کس طرح ہے؟ اس آخری شریعت کی تعلیم میں جو پر حکمت موتی پوشیدہ ہیں اُس سے ہمیں آگاہی دے۔پس یہ احسان ہے جو مؤمنوں پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور جو صرف اور صرف آج اُس عظیم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں اور اُن پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکموں کو ماننے والے ، اُس پر چلنے والے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کو پورا کرنے والے ہیں۔اس زمانے میں قرآن کریم کی عظمت کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کس طرح واضح فرمایا ہے اور توریت کا موازنہ کرتے ہوئے آپ نے ایک جگہ فرمایا کہ وو ” یہ دعویٰ پادریوں کا سراسر غلط ہے کہ قرآن توحید اور احکام میں نئی چیز کو نسی لایا جو توریت میں نہ تھی“۔فرمایا: ” بظاہر ایک نادان توریت کو دیکھ کر دھو کہ میں پڑے گا کہ توریت میں توحید بھی موجود ہے اور احکام عبادت اور حقوق عباد کا بھی ذکر ہے۔پھر کونسی نئی چیز ہے جو قرآن کے ذریعہ سے بیان کی گئی۔مگر یہ دھو کہ اسی کو لگے گا جس نے کلام الہی میں کبھی تدبر نہیں کیا۔واضح ہو کہ الہیات کا بہت سا حصہ ایسا ہے کہ توریت میں اس کا نام و نشان نہیں۔چنانچہ توریت میں توحید کے باریک مراتب کا کہیں ذکر نہیں۔قرآن ہم پر ظاہر فرماتا ہے کہ توحید صرف اس بات کا نام نہیں کہ ہم بتوں اور انسانوں اور حیوانوں اور عناصر اور اجرام فلکی اور شیاطین کی پرستش سے باز رہیں بلکہ توحید تین درجہ پر منقسم ہے۔درجہ اوّل عوام کے لئے ، یعنی ان کے لئے جو خدا تعالیٰ کے غضب سے نجات پانا چاہتے ہیں۔دوسرا درجہ خواص کے لئے، یعنی ان کے لئے جو عوام کی نسبت زیادہ تر قرب الہی کے ساتھ خصوصیت پیدا کرنی چاہتے ہیں۔اور تیسرا درجہ خواص الخواص کیلئے جو قرب کے کمال تک پہنچنا چاہتے ہیں“۔فرمایا: ” اول مرتبہ توحید کا تو یہی ہے کہ غیر اللہ کی پرستش نہ کی جائے اور ہر ایک چیز جو محدود اور مخلوق معلوم ہوتی ہے خواہ زمین پر ہے خواہ آسمان پر ہے اس کی پرستش سے کنارہ کیا جائے بچا جائے)۔