خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 130 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 130

خطبات مسرور جلد نهم 130 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 مارچ 2011ء پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فکر تھی کہ مومنین کی تو بہ حقیقی تو بہ ہو۔آندھی، بادل وغیرہ کو دیکھ کر آپ کا پریشان ہونا اس وجہ سے بھی تھا کہ کہیں مومنوں کی بد عملیاں کسی آفت کو بلانے والی نہ بن جائیں۔یہاں مومنوں کو بھی یہ حکم ہے کہ ایک دفعہ تو بہ کر لی ہے تو تمہارے سامنے جو اُسوہ حسنہ قائم ہو گیا ہے اس کی پیروی کرو۔ورنہ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے۔مومنوں کو حکم ہے کہ اُن لوگوں کی طرح نہ بنیں جو آفت کو دیکھ کر تو خدا تعالیٰ کو یاد کر لیتے ہیں اور جب مشکل دور ہو جائے تو پھر پرانی ڈگر پر آجاتے ہیں۔ایک مومن کی تو بہ تو حقیقی توبہ ہوتی ہے اور مستقل تو بہ ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ایک جگہ مثال دیتے ہوئے فرماتا ہے وَ إِذَا غَشِيَهُمْ مَوْجُ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ فَلَمَّا نَجُهُمْ إِلَى الْبَرِ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِلُ ۖ وَمَا يَجْحَدُ بِأَيْتِنَا إِلَّا كُلُّ خَتَارٍ كَفُورٍ (لقمان: 33) اور جب انہیں کوئی موج سائے کی طرح ڈھانک لیتی ہے تو وہ عبادت صرف اللہ کے لئے مخصوص کرتے ہوئے اُس کو پکارتے ہیں۔پھر جب وہ انہیں خشکی کی طرف نجات دے دیتا ہے تو ان میں سے کچھ لوگ میانہ روی پر قائم رہتے ہیں اور ہماری آیتوں کا انکار صرف بد عہد اور ناشکرا ہی کرتا ہے۔پس حقیقی مومن کی پکار مشکل اور مصیبت سے نجات پانے کے بعد بھی اللہ اللہ ہی ہوتی ہے۔لیکن بد عہد اور ناشکرے اللہ تعالیٰ کو بھول جاتے ہیں اور پھر وہی ظلم و تعدی، شرک اور ہر قسم کی برائیوں کا اُن سے اظہار ہوتا ہے۔وہ اسی چیز میں پڑ جاتے ہیں۔حقیقی مومن تو اس سے بڑھ کر ہے۔یہی نہیں کہ صرف اپنے پر جو مشکل آئے اور مصیبت آئے تو تب ہی خدا تعالیٰ کا خوف دل میں پیدا ہوتا ہے۔صرف اپنے پر آنے والی مصیبت ہی انہیں ایمان میں مضبوط نہیں کرتی بلکہ جیسا کہ ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے دیکھا ہے ، دوسری قوموں کے انجام بھی خوف دلانے والے ہوتے ہیں۔چاہے وہ ماضی میں گزری ہوئی قومیں ہیں یا اس زمانے میں ہمارے سامنے بعض قوموں کی مثالیں نظر آتی ہیں۔اگر پرانی گزری ہوئی قوموں کا انجام اللہ تعالیٰ کا خوف دلانے والا ہوتا ہے تو پھر ایک مومن کے لئے جیسا کہ میں نے کہا اپنے زمانے میں دوسری قوموں پر آفات کس قدر خوفزدہ کرنے والی اور اپنے خدا کے آگے جھکنے والی اور اس سے رہنمائی مانگنے والی ہونی چاہئیں۔لیکن دنیا اس بات کو نہیں سمجھتی۔اکثریت سمجھتی ہے کہ موسمی تغیرات یاز مینی اور آسمانی آفات قانونِ قدرت کا حصہ ہیں اور کچھ عرصے بعد انہوں نے آنا ہی ہو تا ہے۔ایک معمول ہے جن کے مطابق یہ آتی ہیں۔آج کل کے پڑھے لکھے انسان کو اس علم نے اللہ تعالیٰ کی قدرتوں سے ہی بے خوف کر دیا ہے۔ٹھیک ہے کہ قانونِ قدرت کے تحت آفات آتی ہیں۔یہ بھی ٹھیک ہے کہ زلزلے جب آتے ہیں تو زمین کی نچلی سطح کی جو پلیٹس ہیں اُن میں تغیر زلزلوں کا باعث بنتا ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ نیوزی لینڈ یا جاپان وغیرہ کے علاقوں میں ، مشرق بعید کے علاقوں میں جو جزائر ہیں وہ ان پلیٹس کے اوپر آباد ہیں جس کی وجہ سے ان علاقوں میں زلزلے زیادہ آتے ہیں۔لیکن یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ کے کسی بھیجے ہوئے اور