خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 123
123 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 مارچ 2011ء خطبات مسرور جلد نهم دونوں میں بڑے مشہور تھے۔سارے کالج میں مشہور تھا کہ ان جیسا اور کوئی شریف آدمی نہیں۔ایک دفعہ ان کے ایک عزیز کو شرارت سو جھی۔انہوں نے ہوسٹل کے وارڈن یا سپر نٹنڈنٹ کی کچھ چیزیں اُٹھا لیں اور ان کے کمرے میں لا کر نچھپا دیں۔انتظامیہ نے فوری طور پر کارروائی شروع کر دی۔پتہ لگ گیا اور ہوسٹل کے ہر کمرے کو چیک کیا گیا اور جب ان کے کمرے کے قریب آتے تو کہتے کہ نہیں یہ دونوں بچے شریف ہیں ، ان کے ہاں نہیں ہو سکتا۔اور حقیقت یہ تھی کہ اُن لڑکوں نے انہی کے کمرے میں وہ چیزیں چھپائی ہوئی تھیں۔خیر ان کو یہ نہیں پتہ تھا۔یہ کمرے میں گئے تو دیکھا کہ وہاں چیزیں پڑی ہیں تو بڑے پریشان ہوئے کہ اب سچ بھی بولنا ہے لیکن ساتھ ہی یہ فکر بھی تھی کہ ساتھیوں کو سزا ملے گی تو اُن کو سزا سے کس طرح بچایا جائے؟ کہتے ہیں جب چیکنگ ختم ہوئی تو جلدی سے سامان انہوں نے اُٹھایا اور ہوسٹل سپر نٹنڈنٹ کے کمرے کے سامنے جا کے رکھ دیا۔بہر حال کہتے ہیں کہ شکر ہے انتظامیہ نے مزید تحقیق نہیں کی کیونکہ انتظامیہ کو دونوں بھائیوں کی شرافت پر بہت یقین تھا ورنہ انہیں تو سچ ہی بولنا تھا اور جس عزیز پر ان کو شک تھا اُس کا نام آ جانا تھا اور سزاملنی تھی۔جیسا کہ میں نے کہا انہوں نے گورنمنٹ کالج سے بی۔اے کرنے کے بعد پھر حضرت مصلح موعودؓ کی تحریک پر 1944ء میں زندگی وقف کرنے کا خط لکھا۔آپ نے حضرت مصلح موعودؓ کو لکھا کہ میں بار بار آپ کو خواب میں دیکھ رہا ہوں اس لئے میں زندگی وقف کرتا ہوں اور اپنے بھائی کو بھی تحریک کی کہ وہ بھی زندگی وقف کریں۔پھر دونوں نے زندگی وقف کی۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایم این سنڈیکیٹ کے تحت سندھ کی زمینوں پر ان کو بھجوا دیا۔وہاں یہ کافی عرصہ رہے۔پھر تقریبا گیارہ سال 82ء سے 93ء تک وکالت تبشیر میں بھی خدمات سر انجام دیتے رہے۔وقت پر دفتر جاتے تھے۔اپنے جو مفوضہ کام ہیں وہ سر انجام دیتے۔کوئی زائد بات نہیں۔بعضوں کو بیٹھ کے گپیں مارنے کی عادت ہوتی ہے۔ان کے افسران جو تھے ان سے عمر میں چھوٹے بھی تھے اور بعض قریبی عزیز بھی تھے ، لیکن کامل اطاعت اور عاجزی کے ساتھ اپنے افسران کے دیئے ہوئے کام کو سر انجام دیتے۔کبھی شکوہ نہیں کیا کہ اتنا کام دے دیا ہے ؟ یہاں ہمارے مبلغ لیق طاہر صاحب ہیں انہوں نے مجھے لکھا کہ جب میں نائب وکیل التبشیر تھا تو بڑی عاجزی سے کام کرتے تھے اور بڑی عزت سے پیش آیا کرتے تھے۔اتنی زیادہ عزت کرتے تھے کہ شرمندگی ہونی شروع ہو جاتی تھی۔کبھی یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ میں حضرت مصلح موعودؓ کا داماد ہوں یا دو خلفاء کا بہنوئی ہوں۔ایک خاموش دعا گو بزرگ زیر لب دعائیں کرتے ہوئے دفتر میں آتے تھے اور اپنا دفتر کا کام کر کے چلے جاتے تھے۔ایک فرشتہ سیرت انسان تھے۔جس کا بھی آپ سے واسطہ پڑا آپ کی تعریف کرتا ہے۔غریبوں کی عزت اور احترام بھی اس طرح کرتے جس طرح کسی امیر کا۔کسی حق بات پر امیر کو غریب پر فوقیت نہیں دی۔بعض لوگ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے آپ پر اعتماد کی وجہ سے آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کرتے رہے اور کی بھی۔بشری تقاضا بھی ہے اور قواعد بھی اجازت دیتے ہیں کہ آپ ان نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کارروائی کر سکتے تھے لیکن آپ نے ہمیشہ اپنا معاملہ خدا تعالیٰ پر چھوڑا۔اور میں نے دیکھا ہے کہ جب ایسے