خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 121
خطبات مسرور جلد نهم 121 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 مارچ 2011ء سید داؤد مظفر شاہ صاحب کے ساتھ خدا تعالیٰ کا ایک خاص سلوک تھا۔دنیا اُن کا مقصود نہیں تھا۔اس لئے کوئی غیر معمولی مالی کشائش تو بے شک نہیں تھی۔جو تھا اُس پر بھی شکر تھا۔اور اس میں سے بھی غریبوں اور ضرور تمندوں کی مدد اس حد تک کرتے تھے جو اکثر بڑی بڑی رقموں والے اور پیسے والے نہیں کرتے۔اُن کی ایک بہو جو اُن کے ساتھ ہی رہتی تھیں ( اُن کے بیٹے صہیب کی بیوی) کہتی ہیں کہ جب کوئی رقم آتی تو آخری عمر میں نظر کی زیادہ کمزوری کی وجہ سے خود حساب کتاب نہیں لکھ سکتے تھے اس لئے مجھ سے ( اپنی بہو سے ) حساب کرواتے اور فرماتے تھے کہ پہلے تو وصیت کا حصہ نکالو، پھر یتیموں کا کچھ حصہ نکالو، پھر غریب طلباء کا حصہ نکالو اور نادار مریضوں کے علاج کے لئے نکالو ، اس کے بعد اگر کوئی رقم بچ گئی تو اپنی ضرورت کے لئے رکھتے تھے۔اور دوسرے مجھے بھی علم ہے کہ جماعتی تحریکات میں، وقف جدید، تحریک جدید اور تحریکات میں بڑا بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتے تھے۔ان کے بچے بتاتے ہیں کہ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ بچوں کو پوچھتے تمہیں کوئی پریشانی ہے؟ جب کہ اُن کے سامنے کوئی ذکر نہیں ہوا ہو تا تھا اور چند سال سے نظر بھی جیسا کہ میں نے کہا اتنی گر گئی تھی کہ چہرے کے تاثرات سے بھی دیکھ کر اندازہ نہیں لگا سکتے تھے کہ کیا پریشانی ہے؟ بلکہ ان کے بیٹے محمود نے مجھے لکھا کہ بعض دفعہ پریشانی کے حالات ہوتے تھے تو ایک دو دن بعد اتنا پوچھتے تھے کہ فلاں شخص سے کوئی تکلیف تو نہیں پہنچی۔اور یہ ایسی باتیں ہوتی تھیں جو حقیقت میں سچ ہوتی تھیں اور سوائے خدا کے انہیں اور کوئی نہیں بتا سکتا تھا۔اور پھر آپ کو دعا کی تحریک ہوتی جس سے آسانیاں پیدا جاتیں۔اسی طرح ان کی بہو نے لکھا کہ میری بعض پریشانیاں تھیں۔مجھے کہتے کہ تمہیں فلاں فلاں پریشانی ہے ، حالانکہ ان کے پاس کبھی ذکر نہیں ہوا اور پھر اللہ کے فضل سے اُن کی دعا سے وہ پریشانی دور ہو جاتی۔قرآنِ کریم سے بھی اُن کو ایک عشق تھا۔روزانہ کئی سپارے پڑھ جاتے تھے۔پانچ چھ سپارے کم از کم، بلکہ بعض دفعہ سات آٹھ۔اور اس وجہ سے ایک بڑا حصہ یاد بھی تھا۔مجھے ایک دفعہ رمضان میں کہنے لگے کہ نظر کمزور ہو رہی ہے۔آنکھوں پر بڑا بوجھ پڑتا ہے۔اب میں زیادہ قرآن کریم پڑھ نہیں سکتا جس کی مجھے بڑی تکلیف ہے۔تو میں نے اپنے خیال میں بڑی دُور کی چھلانگ لگا کر کہا کیا فرق پڑتا ہے ایک دو سپارے تو آپ اب بھی پڑھ ہی لیتے ہوں گے۔تو کہتے ہیں نہیں ابھی بھی، اس حالت میں بھی میں تین چار سپارے تو پڑھ ہی لیتا ہوں۔تو یہ قرآنِ شریف سے اُن کا عشق تھا۔جب میں نے کہا اتنا پڑھ لیتے ہیں تو پھر کیا حرج ہے۔لیکن انہیں یہ بے چینی تھی کہ رمضان میں تو ہر وقت قرآنِ کریم مطالعہ میں رہنا چاہئے۔اور آخری عمر میں دو تین سال پہلے تک جیسا کہ میں نے کہا نظر کی کمزوری کی وجہ سے بالکل ہی نہیں پڑھ سکتے تھے تو پھر جو حصہ یاد ہو تا تھا وہ پڑھتے تھے بلکہ سارا ہی یاد تھا۔لیکن اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ اپنے پیار کا عجیب سلوک فرمایا۔اپنے پوتے کو ایک دن کہنے لگے کہ قرآن کریم دیکھ کے تو میں پڑھ نہیں سکتا لیکن جب میں پڑھتا ہوں، یاد حصہ پڑھناشروع کر تاہوں اور جہاں بھول جاتا ہوں وہاں کوئی فرشتہ آکے مجھے وہ حصہ یاد کر وا جاتا ہے، پڑھا جاتا ہے۔وہ دوہراتا ہے اور میں پیچھے دوہر ادیتا ہوں۔اُن کے بڑے بیٹے کا مکان ربوہ میں بن رہا تھا تو بار بار اپنے بچوں سے پوچھتے تھے ، کہاں تک پہنچا ہے ؟ ایک