خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 117
خطبات مسرور جلد نهم 117 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 مارچ 2011ء اہتمام سے پلاتے رہے ہیں۔حضور علیہ السلام بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے ہم کو بھی ان پر رشک آتا ہے۔یہ ہے۔یہ الفاظ چند بار فرمائے۔“ (سیرت المہدی جلد اول حصہ سوم صفحه 545 روایت نمبر 563 مطبوعہ 2008ء) حضرت ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحب جو سید داؤد مظفر شاہ صاحب کے دادا تھے۔اُن کی وسعتِ حوصلہ اور صبر کا ایک واقعہ ہے۔پہلے بھی کئی دفعہ بیان ہو چکا ہے۔آپ ایک شخص کو تبلیغ کر رہے تھے۔مسجد میں بیٹھے تھے۔اُس وقت آپ سرکاری ہسپتال میں سول سرجن تھے اور سول سرجن اس زمانہ میں ایک بڑا عہدہ سمجھا جاتا تھا۔تو اس شخص سے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت اور دعویٰ پر بحث ہو رہی تھی تو اس نے ایک وقت میں غصے میں آکر پٹی مٹی کا لوٹا اُٹھا کے آپ کی طرف زور سے پھینکا یا سر پہ مارا۔بہر حال ماتھے پر لگا اور سر پھٹ گیا جس سے ان کا خون بہنے لگا۔تو حضرت ڈاکٹر صاحب بغیر کچھ کہے وہاں سے سر پہ ہاتھ رکھ کے ہسپتال چلے گئے۔وہاں جا کے پٹی کروائی اور اس دوران میں اُس شخص کو بھی احساس ہوا کہ یہ میں نے کیا کیا؟ یہ تو بڑے سرکاری افسر ہیں اور پولیس آئے گی اور مجھے پکڑ کے لے جائے گی۔بڑا خوفزدہ تھا۔لیکن دیکھا کہ تھوڑی دیر بعد حضرت ڈاکٹر صاحب سر پہ پٹی باندھے واپس تشریف لے آئے اور اُس شخص سے کہا کہ مجھے امید ہے تمہارا غصہ ٹھنڈ ا ہو گیا ہو گا۔اب دوبارہ بات کرتے ہیں۔اس عرصے میں وہ شخص کہتا ہے کہ میر اتو پہلے ہی بُرا حال تھا تو میں اُن سے معافیاں مانگنے لگ گیا اور اُس وقت شرمندگی سے بھی اور خوف سے بھی میری حالت عجیب (ماخوذ از کتاب ”حضرت ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحب صفحہ 62 مؤلفہ احمد طاہر مرزا شائع کردہ مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان) تو یہ صبر کا نمونہ تھا جو باوجو د اختیار ہونے کے ڈاکٹر صاحب نے دکھایا۔اور یہ اعلیٰ اخلاق وہی دکھا سکتا ہے جس نے اپنے اندر ایک پاک تبدیلی پیدا کی ہو۔حقیقی رنگ میں تزکیہ نفس ہو۔بہر حال یہ حضرت ڈاکٹر عبد الستار شاہ صاحب جیسا کہ میں نے کہا سید داؤد مظفر شاہ صاحب کے دادا تھے۔اور سید داؤد مظفر شاہ صاحب ڈاکٹر صاحب کے بیٹے حضرت حافظ سید محمود اللہ شاہ صاحب کے دوسرے بیٹے تھے۔ان لوگوں کے بارہ میں حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب جو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے معالج خاص تھے ، اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ چوتھے فرزند اس مقدس جوڑے کے ( یعنی حضرت ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحب اور اُن کی اہلیہ کے) حضرت حافظ سید محمود اللہ شاہ صاحب تھے جو نہایت با اخلاق بزرگ تھے۔آپ نہ صرف خدا تعالیٰ کے ساتھ عشق و محبت کا خاص تعلق رکھتے تھے بلکہ خیر خواہی خلق کا جذبہ بھی اعلیٰ درجہ کا پایا جاتا تھا۔آپ کی محبت کا حلقہ بہت وسیع تھا۔بزرگوں کا ادب کرنا اور چھوٹوں پر شفقت کرنا آپ کا خاصہ تھا۔آپ کی دعاؤں کے صدقے آپ کے بیٹے بھی نیک اور پارسا ہیں“۔(یعنی آپ کے دونوں بیٹے جن میں سے ایک سید داؤد مظفر شاہ صاحب اور دوسرے سید مسعو د مبارک شاہ صاحب ہیں) سید داؤد مظفر شاہ صاحب کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ان میں ایک خوش بخت وہ بھی ہیں جن کے نکاح میں حضرت المصلح الموعودؓ نے اپنی ایک لخت جگر دے دی اور اللہ تعالیٰ نے اس جوڑے کو چھ بچے عطا فرمائے۔( الفضل ربوہ 3 فروری 1962ء۔بحوالہ کتاب ”حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب صفحہ 60 مؤلفہ احمد طاہر مر زا شائع کردہ مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان)