خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 114
خطبات مسرور جلد نهم 114 10 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 مارچ 2011ء خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 مارچ 2011ء بمطابق 11 امان 1390 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : "آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) اور صحابہ کرام کے زمانہ کو دیکھا جاوے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ بڑے سیدھے سادے ہوتے تھے۔جب ایک برتن کو مانجھ کر صاف کر دیا جاتا ہے ، پھر اُس پر قلعی ہوتی ہے اور پھر نفیس اور مصفی کھانا اس میں ڈالا جاتا ہے یہی حالت اُن کی تھی۔اگر انسان اسی طرح صاف ہو اور اپنے آپ کو قلعی دار بر تن کی طرح منور کرے تو خدا تعالیٰ کے انعامات کا کھانا اُس میں ڈال دیا جاوے گا“۔فرمایا لیکن اب کس قدر انسان ہیں جو ایسے ہیں ؟ ( البدر جلد 2 نمبر 23 مورخہ 26 جون 1903ء صفحہ 177 کالم نمبر 1) اسی کی ایک اور روایت ہے جس کا ورژن (Version) دوسرے اخبار میں یہ ہے کہ بر تن کی مثال دیتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ جس طرح برتن صاف ہوتا ہے ایسے ہی اُن لوگوں کے ( یعنی صحابہ کے) دل تھے جو کلام الہی کے انوار سے روشن اور کدورت انسانی کے زنگ سے بالکل صاف تھے۔گویا قَد أَفْلَحَ مَنْ ركتها (الشمس: 10) کے بچے مصداق تھے۔(ماخوذ ازا الحکم جلد 7 نمبر 24 مورخہ 30 جون 1903ء صفحہ 10 کالم نمبر 2) پس یہ انقلاب تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن لوگوں میں پیدا فرمایا جو دشمنیوں اور کینوں میں اس قدر بڑھے ہوئے تھے کہ ایک دفعہ کی دشمنی نہ صرف یہ کہ سالوں چلتی تھی بلکہ نسلوں تک چلتی تھی۔لیکن جب ایمان لائے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے کامل عبد بننے کی کوشش کی۔قرآنِ کریم کو پڑھا، سمجھا اور اپنے پر لاگو کیا اور اس الہی کلام کے نور سے اپنے دلوں کو منور کیا تو پھر ایسے مصفی ہو گئے جیسے قلعی کیا ہوا برتن چمکتا ہے۔یہاں رہنے والوں کو یا بعض لوگوں کو شاید قلعی کا صحیح اندازہ نہ ہو کہ برتن کو قلعی کرنے کا طریق کیا ہے؟