خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 115 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 115

115 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 مارچ 2011ء خطبات مسرور جلد نهم پرانے زمانے میں تانبے اور دھاتوں کے برتن ہوتے تھے اور کچھ عرصے بعد انہیں قلعی کروانا پڑتا تھا۔پاکستان میں اور ہندوستان میں رہنے والے لوگوں کو تو اندازہ ہو گا کہ کس طرح قلعی ہوتی ہے اور خاص طور پر جو ہمارے لنگر خانوں میں ڈیوٹی دینے والے ہیں اُن کو بھی اندازہ ہے کیونکہ جلسہ سالانہ میں دیگیں قلمی کروائی جاتی ہیں۔قلعی کے لئے پہلے بر تن کو آگ میں ڈالا جاتا ہے پھر اس پر نوشادر یا کچھ کیمیکل ملے جاتے ہیں پائل کے آگ میں ڈالا جاتا ہے۔بہر حال اُس کے بعد پھر ایک سفید چمکدار دھات ہوتی ہے وہ اس پر ملی جاتی ہے۔جب اچھی طرح اُس کا گند پہلے سے اتارا جائے اور پھر یہ دھات کل کے اُس کو ایک کپڑے سے اچھی طرح پالش کیا جائے تو پھر وہ بر تن اس طرح بالکل صاف شفاف اور چمکدار ہو جاتا ہے جیسے چاندی کا برتن ہو۔میں نے یہ وضاحت اس لئے کی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ قلعی کئے ہوئے بر تن کی جو مثال دی ہے ، یہ کوئی عام کوشش نہیں ہے بلکہ اچھی طرح صاف کرنے کے بعد مزید چمکانے کے لئے آگ میں ڈالا جاتا ہے۔ایک پراسس (Process) ہے اُس میں سے گزرنا پڑتا ہے۔ایک عمل ہے اُس میں سے گزرنا پڑتا ہے۔تو آپ کی بات کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان جب اس مقام پر پہنچتا ہے یا پہنچنا چاہتا ہے جب کلام الہی کے نور سے حقیقی رنگ میں منور ہو تو ایک تکلیف سے، ایک محنت سے یا تکلیف دہ محنت سے گزرنا پڑتا ہے ، تب ایک انسان اُس فلاح کے مقام کو حاصل کرتا ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرمائی ہے کہ اس نے فلاح حاصل کر لی جو پاک ہو گیا۔جب تزکیہ نفس ہو یا تزکیہ نفس کرنے کی کوشش ہو تو اس کے لئے ایک محنت درکار ہے۔اس زمانہ میں آخرین کو پہلوں سے ملانے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی اپنے آقا کی غلامی میں اس لئے مبعوث ہوئے کہ زنگ آلود دلوں کو مصفی کرنے کا طریق بتا کر ان برتنوں کو کلام الہی کے نور سے منور کر دیں۔آپ کے صحابہ میں ہم جس کو بھی دیکھتے ہیں یہ مثالیں ہمیں نظر آتی ہیں۔اُن کے دل نور سے بھرے ہوئے تھے اور تقویٰ سے زندگی گزارنے والے تھے۔پس یہ عمل ہی ہے جس کو کر کے ہم اللہ تعالیٰ کا قرب پاسکتے ہیں ، اپنے نفس کا تزکیہ کر سکتے ہیں۔اس بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”تم لوگوں کو سمجھنا چاہئے کہ تزکیہ نفس کس کو کہا جاتا ہے۔سو یاد رکھو کہ ایک مسلمان کو حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پورا کرنے کے واسطے ہمہ تن تیار رہنا چاہئے اور جیسے زبان سے خدا تعالیٰ کو اس کی ذات اور صفات میں وَحْدَهُ لا شَرِيك سمجھتا ہے ایسے ہی عملی طور پر اُس کو دکھانا چاہئے اور اُس کی مخلوق کے ساتھ ہمدردی اور ملائمت سے پیش آنا چاہئے۔اور اپنے بھائیوں سے کسی قسم کا بھی بغض، حسد اور کینہ نہیں رکھنا چاہئے۔اور دوسروں کی غیبت کرنے سے بالکل الگ ہو جانا چاہئے“۔فرمایا کہ ”خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم آپس میں ایک وجود کی طرح بن جاؤ اور جب تم ایک وجود کی طرح ہو جاؤ گے اُس وقت کہہ سکیں گے کہ اب تم نے اپنے نفسوں کا تزکیہ کر لیا“۔( ملفوظات جلد نمبر 5 صفحہ 407 جدید ایڈیشن)