خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 5 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 5

5 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 جنوری 2011ء خطبات مسرور جلد نهم ہو یا ہلکی بارش، بڑی قربانی ہو یا تھوڑی قربانی، دولتمند ہوں یا غریب، اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر کی گئی قربانیاں دوگنے پھل لاتی ہیں۔جیسا کہ حضرت چوہدری عبد العزیز صاحب کے بارہ میں حضرت قاضی محمد یوسف صاحب نے لکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کے اس اخلاص کے بے انتہا پھل لگائے۔تنخواہ کے ساتھ شاید تھوڑی سی اُن کی زمین بھی ہو۔پٹواری عموماً دیہاتوں کے رہنے والے ہوتے ہیں اور کچھ نہ کچھ زمیندارہ ہوتا ہے جس کی آمد بھی ہوتی ہو گی۔اس کی وجہ سے کچھ رقم بھی جمع کرلی ہو گی۔وہ سب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قدموں میں لا کے رکھ دی۔ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کو کبھی پیسوں کی ضرورت نہیں ہوتی کہ اللہ تعالیٰ کو بندوں سے پیسوں کی ضرورت ہو۔اللہ تعالیٰ جب قربانی کے لئے فرماتا ہے تو بندے کو ثواب دینے کی خاطر۔اور یہی حال اللہ تعالیٰ کے انبیاء کا ہوتا ہے۔انہیں اس بات کی فکر نہیں ہوتی کہ جماعت کے جو اخراجات ہیں کس طرح پورے ہوں گے ؟ اللہ تعالیٰ جب کام شروع کرواتا ہے، کسی کو بھیجتا ہے تو اس کے لئے اسباب بھی مہیا فرما دیتا ہے۔ظاہری تحریک انبیاء ضرور کرتے ہیں اور اس کے بعد خلفاء بھی کرتے ہیں لیکن ضرورت پوری کرنے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہوا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی یہ وعدہ ہے۔اس لئے آپ نے ایک جگہ اس بات کا اظہار بھی فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وعدہ فرمایا ہے کہ خرچ کے لئے رقم کہاں سے آئے گی۔آپ نے فرمایا یہ تو بہت آئے گی لیکن اس کو دیکھ کر تم لوگ دنیا دار نہ ہو جانا۔یعنی انفرادی طور پر بھی جماعت کو خوشخبری دے دی کہ تم لوگوں کو کشائش عطا ہو گی اور جماعتی طور پر بھی کشائش پیدا ہو گی۔پس جماعتی طور پر جو کشائش پیدا ہو تو جن کے ہاتھ میں خرچ ہے اُن کو بھی ہمیشہ اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ہم کسی بھی قسم کا غیر ضروری خرچ نہ کریں۔ہر پیسے کو سنبھال کے اور احتیاط سے خرچ کریں۔غریب قربانی کر رہے ہیں یا امیر قربانی کر رہے ہیں، اس کو سوچ سمجھ کر خرچ کرنا یہ خرچ کرنے والوں کا کام ہے اور بہت اہم کام ہے تا کہ جہاں وہ خدمت دین کر رہے ہیں، خدمتِ سلسلہ کر رہے ہیں تو ان خرچوں کو سنبھال کر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بھی بنیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قربانی کی جو روح جماعت میں پیدا کی ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس میں جماعت ترقی کرتی چلی جارہی ہے۔صحابہ کی قربانیوں کے نمونے نئے آنے والے بھی زندہ رکھے ہوئے ہیں۔دنیا کے دور دراز علاقوں میں جہاں جہاں بھی جماعتیں قائم ہو رہی ہیں، غریب لوگ ہیں لیکن مالی قربانیاں بھی کرتے ہیں۔ہلکی بارش بھی ان کی قربانیوں کو پھلوں سے لا د ر ہی ہے اور واپل کے نمونے بھی ہمیں نظر آتے ہیں۔تیز بارش کی طرح مالی قربانیوں میں ان کے ہاتھ کھلے ہوئے ہیں۔اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش اُن کے کاروباروں کو کئی گنا بڑھاتی چلی جارہی ہے۔اس وقت میں نے چند واقعات لئے ہیں جو آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔