خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 97 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 97

خطبات مسرور جلد نهم 97 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 فروری 2011ء حالات حاضرہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کوئی مسلمان تنظیم ہے، اُن کی طرف سے یہ توجہ دلائی گئی تھی کہ اس صورتِ حال کا جو آج اسلامی ملکوں میں پید اہو رہی ہے ، مستقل حل کیا ہے ؟ وہ لکھتا ہے ، (مختصر ابیان کر دیتا ہوں۔مصر اور تیونس کی انہوں نے مثال لی ہے) کہتے ہیں کہ پوری دنیا کے مسلمان مصر اور تیونس کے بھائی بہنوں کی اپنے ممالک کے ظالم حکمرانوں کے خلاف جد وجہد آزادی دیکھ کر بہت خوش ہیں ( یہ ترجمہ میں نے کیا ہے اُس کا )۔ہم ان واقعات پر چند خیالات کا اظہار کرنا چاہتے ہیں۔تو پہلی بات اُس نے یہ لکھی کہ یہ بات واضح ہو گئی ہے اور ہم سب اس کے گواہ ہیں کہ اس وقت اسلام کو ضرورت ہے کہ ظالم حکمرانوں کے خلاف آواز اٹھائی جائے۔مصر اور تیونس کے واقعات نے دنیا کو بتا دیا کہ بد عنوان حکمرانوں کو ہٹایا جا سکتا۔سکتا ہے۔پھر آگے مغربی میڈیا پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ اسلام کے خلاف ایسی اصطلاحات استعمال کرتا ہے جس سے اسلام ایک خوفناک مذہب کے طور پر دکھائی دیتا ہے۔لکھتا ہے کہ حالانکہ یہ لوگ نظام خلافت کو قبول کرنے کو تیار نہیں جس سے قرآن و حدیث کے تحت نظام زندگی کا تصور دیا جاتا ہے۔پھر کہتے ہیں کہ اسلامی طرزِ زندگی سے بد دل کرنے کا یہ پروپیگینڈہ ہم گزشتہ دس سال سے دیکھ رہے ہیں۔یہ حملہ پر دہ، قرآن مجید ( یعنی بُرقعہ اور قرآنِ مجید) اور حضرت محمد رسول اللہ صلی للی کم اور شریعت کی عزت و حرمت پر کیا جاتا ہے جو روز مرہ کی زندگی سے لے کر سیاست کے ایوانوں تک اثر انداز ہوتا ہے۔پھر کہتے ہیں کہ اسلامی ریاست میں مقام خلافت یا اسلامی طرزِ حکومت چونکہ مرکزی کردار کا حامل ہے، اس لئے ہمارے دین کی جان ہے۔اس سے اسلام میں اتحاد کی امید وابستہ ہے جو مصر ، غزہ اور سوڈان جیسے ممالک میں اتحاد پیدا کر سکتی ہے۔پھر کہتا ہے کہ اسلامی طرز حکومت میں صرف خلافت ہی ہے جو حکمرانوں پر کڑی نظر رکھ سکتی ہے۔جہاں وہ حکمران منتخب کئے جاتے ہیں جو ریاست کو جواب دہ ہوتے ہیں۔آزاد عدلیہ اور میڈیا کا نظام ہوتا ہے۔جہاں عورت کو ماں ، بیوی اور بہن کا مقام بلند دلایا جاتا ہے۔جہاں کسی گورے کو کالے پر فوقیت نہیں ہوتی۔جہاں بلا امتیاز مذہب و ملت امیر اور غریب کے لئے ایک ہی قانون ہوتا ہے۔جہاں ریاست عوام کے لئے روٹی، کپڑا اور مکان مہیا کرتی ہے۔یہی ایک راہ ہے جس پر چل کر اُمت ایک بار پھر اسلام کی اخلاقی اور روحانی قدروں کا نور دنیا میں پھیلا سکتی ہے۔پھر اُس نے مسلمانوں کو اس بات پر ابھارنے کی کوشش کی ہے کہ اسلامی نظام کے حق میں پروپیگنڈہ کریں اور اس کے بر خلاف جو دنیاوی نظام ہے ، اُس کے خلاف آواز اٹھائیں۔خلافت کے قیام کی کوشش کریں کیونکہ اس کے بغیر مسلم امہ میں اور دنیا میں تبدیلی نہیں آسکتی۔تو یہ اُس کی باتوں کا خلاصہ ہے۔مسلمانوں کو ایک کرنے کے لئے ، انصاف قائم کرنے کے لئے ، دنیا میں