خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 67
67 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 فروری 2011ء خطبات مسرور جلد نهم صاحب انتہائی فراست اور حکمت سے تمام سوالوں کے جواب دیتے رہے اور اس کا چیف جسٹس آفیسر جو تھا اُس پر بڑا اچھا اثر ہوا۔کہتے ہیں اُس وقت اس کی حاکمانہ صورت جاتی رہی اور پھر وہ دلچسپی اور خندہ پیشانی کے ساتھ تقریباً آدھا گھنٹہ احمدیت کے بارہ میں معلومات حاصل کرتا رہا اور بعد میں بڑی عزت سے ان سب کو رخصت کر دیا۔جیسا کہ میں نے بتایا تھا کہ انڈو نیشین مضمون نگار نے انڈونیشیا کے بنانے میں جماعت احمدیہ کی خدمات کا ذکر کیا تھا، اس کا مختصر ذکر کر دیتا ہوں۔یہ تو ذکر پہلے ہو گیا کہ جماعت کس طرح وہاں قائم ہوئی؟ کیا کیا مشکلات شروع دور میں ہوتی رہیں؟ ہمیشہ سے یہاں مخالفت رہی ہے۔بہر حال پھر جماعتی خدمات کیا تھیں ؟ اس بارے میں مختصر بیان کرتا ہوں کہ تحریک آزادی انڈونیشیا کے حق میں بر صغیر پاک و ہند سے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پر زور آواز بلند کی اور دوسرے مسلمانوں کو بھی تحریک کی کہ وہ مسلمانانِ انڈو نیشیا کی تحریک آزادی کی زبر دست تائید کریں۔اس کا اظہار حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے 16 اگست 1946ء کے ایک خطبہ جمعہ میں فرمایا تھا۔حضور کی اس تحریک کے بعد قادیان کے مرکزی پریس کے علاوہ دنیا بھر کے احمدی مشنوں کو بھی انڈونیشیا کی تحریک آزادی کے حق میں مؤثر آواز بلند کرنے کے لئے کہا گیا۔یہاں تک کہ بالآخر انڈو نیشیا کو آزادی مل گئی۔اس کی کچھ تفصیل اس طرح ہے کہ جاپانی حکومت کے خاتمہ پر ڈاکٹر سوئیکارنو نے 17 اگست 1945ء کو انڈونیشیا کی آزادی کا اعلان کر دیا اور ڈچ حکومت کے خلاف سارے ملک میں آزادی کی جنگ لڑی جانے لگی۔اس موقع پر مبلغین احمدیت اور دوسرے احمدیوں نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارشاد کے ماتحت تحریک آزادی میں بھر پور حصہ لیا اور مبلغین احمدیت اور جماعت کے سر بر آوردہ احباب نے ری پبلکن حکومت کے ساتھ مل کر کام کیا۔سید شاہ محمد صاحب جوگ جا کر تا “ پہنچے اور ڈاکٹر سوئیکارنو سے ملاقات کی اور ان سے درخواست کی کہ میں آزادی کی اس تحریک میں شامل ہو کر اس ملک کی خدمت کرنا چاہتا ہوں۔(آپ بھی مبلغ تھے ) صدر سوئیکارنو نے اور کاموں کے علاوہ آپ کے سپر دریڈیو سے اردو زبان میں خبریں نشر کرنے کا کام کیا۔آپ کے علاوہ مکرم مولوی عبد الواحد صاحب اور مکرم ملک عزیز احمد خان صاحب نے بھی تقریباً دو تین ماہ ریڈیو پر نشر کا کام کیا۔سید شاہ محمد صاحب تو جوش و خروش سے اس تحریک میں شامل رہے۔ان کا جوش و خروش اتنا تھا کہ ایک سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ ”ہم سید شاہ محمد صاحب کو اپنی قوم ہی کا ایک فرد تسلیم کرتے ہیں۔“ یہ ہندوستانی نہیں۔شاہ محمد صاحب کی خدمات کا اعتراف اس طرح سے ہے۔سید شاہ محمد صاحب نے تحریک آزادی انڈو نیشیا میں جو کردار ادا کیا اور جو خدمات سر انجام دیں ان کو سراہتے ہوئے 3 اگست 1957ء کو انڈونیشیا نے زیر خط ( اُن کا نمبر ہے) سند خوشنودی عطا کی۔اور یہ سند جنرل سیکریٹری وزارت اطلاعات کے توسط سے دی گئی۔اور اس میں تحریر کیا گیا کہ ”ہم سید شاہ محمد صاحب ہیڈ آف دی احمد یہ مسلم مشن مقیم جاکر تا کی ان خدمات اور کارناموں کے لئے انتہائی رنگ میں قدرو منزلت کا اعتراف کرتے ہیں جو انہوں نے انڈو نیشین قوم اور حکومت ری پبلک انڈونیشیا کی