خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 646 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 646

646 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 دسمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم رہے تھے حضور کی خدمت میں پہلی بار حاضر ہوئے اور اس کے بعد عموماً حاضر ہوتے رہے اور بیعت بھی نہایت جلدی کر لی تھی۔کیونکہ وہ یعنی حافظ صاحب ( جو حکیم فضل الرحمن کے والد صاحب تھے ) دعویٰ سے پہلے ہی بیعت لینے کو عرض کرتے رہتے تھے۔مجھے اصل سن بیعت اور ملاقات کا یاد نہیں مگر جب وہ پہلی دفعہ آئے تو پھر حضور کے ہی ہو رہے۔پھر لکھتے ہیں کہ مجھے قادیان میں ہی تعلیم دلوائی (یعنی حکیم فضل الرحمن صاحب کو ، اپنے بیٹے کو قادیان میں تعلیم دلوائی) آپ صدموں کے وقت رضا بالقضاء کا نہایت اعلیٰ نمونہ دکھاتے۔(حکیم صاحب لکھتے ہیں کہ) جب ہمارے بڑے بھائی کی 1907ء میں وفات ہوئی، اُس وقت ہماری دو بڑی بہنوں کی شادی کے دن قریب تھے اور اس غرض کے لئے ہم سب والد صاحب کی ملازمت کی جگہ سے اپنے وطن فیض اللہ چک گئے ہوئے تھے۔ایک بہن کی بارات راہوں ضلع جالندھر سے آئی تھی۔جب بارات آنے میں تین دن رہ گئے تو ان کے بھائی عبد الرحمن صاحب کا قادیان میں جگر کے پھوڑے سے انتقال ہو گیا، اس پر راہوں سے ہمیں تار آئی ( لڑکے والوں نے کہا کہ وہ اس وفات کے پیش نظر شادی کی تاریخ تھوڑا سا آگے کر دیتے ہیں۔خود ہی انہوں نے پیشکش کی۔حکیم صاحب کے والد صاحب نے کہا کہ وفات ایک قضائے الہی تھی وہ ہو گئی۔آپ اپنے وقت پر بارات لے کر آئیں اور لڑکی کا رخصتانہ لے جائیں۔چنانچہ اپنے عزیز بچے کی وفات کے تین دن کے اندر دو لڑکیاں بیاہ دیں جو کہ ایک دنیا دار شخص کے لئے نہایت کڑا امتحان ثابت ہو۔پھر لکھتے ہیں کہ خلافت اولی و ثانیہ دونوں کے وقت آپ کو خدا کے فضل سے کبھی کوئی ابتلاء پیش نہیں آیا اور نہ ہی آپ نے دونوں خلفاء کی بیعت میں کوئی تردد کیا۔خلافت کے ماننے میں اس قدر اعلیٰ نمونہ دکھایا کہ میں دو دفعہ تبلیغ کے لئے مغربی افریقہ میں آیا ہوں ، ( حضرت حکیم فضل الرحمن صاحب بڑ المباعرصہ مغربی افریقہ میں مبلغ رہے ہیں) پہلی مرتبہ جب آٹھ برس متواتر رہا تھا اور اب بھی سات برس ہو گئے ہیں، باوجود کئی مختلف حالات میں سے گزرنے کے جن میں دنیاوی سامانوں کے لحاظ سے میں اُن کے لئے بہت بڑی مدد کا موجب ہو سکتا تھا آپ نے مجھے ہمیشہ یہی نصیحت فرمائی کہ میں ہر گز کسی قسم کی بے صبری نہ دکھاؤں۔جب حضرت خلیفتہ المسیح واپس بلانے کا ارشاد فرمائیں تب ہی واپس آؤں (یعنی خود کچھ نہیں کہنا، کوئی مطالبہ نہیں کرنا)۔زمانہ ملازمت میں آپ سلسلے کے جملہ اخبارات خرید تے رہے اور چندہ با قاعدہ ادا فرماتے رہے۔غرباء کی بہت مدد کی۔مہمان نوازی حد درجہ کی فرماتے۔آپ نے وصیت کی ہوئی ہے اور ایام ملازمت میں حصہ آمد ادا کرتے رہے۔آپ کی کسی قدر زمین فیض اللہ چک میں ہے جس کے عشر کی آپ نے وصیت کی ہے۔انجمن کے نام اپنی زمین کرادی۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ حضرت مسیح موعود جلد 12 صفحہ 1 تا 3 غیر مطبوعہ۔روایت حضرت حافظ نبی بخش صاحب) جن صحابہ کا میں ذکر کر رہا ہوں ان کے پڑپوتے عزیزم عمیر ابن ملک عبد الرحیم صاحب کو 28 مئی کو ماڈل ٹاؤن مسجد میں اللہ تعالیٰ نے شہادت کا مرتبہ بھی عطا فرمایا۔اُس کے چھوٹے چھوٹے دو بچے ہیں، اللہ تعالیٰ اُن کا حافظ و ناصر ہو تمام شہداء جو ہیں اور جو نوجوان شہداء تھے، اُن کے بچوں اور بیو گان کے لئے بھی دعا کرنی چاہیئے اور