خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 558 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 558

خطبات مسرور جلد نهم 558 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 نومبر 2011ء اللهُ بِذُنُوبِهِمْ وَمَا كَانَ لَهُمْ مِنَ اللهِ مِنْ وَاقٍ - ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانَتْ تَأْتِيهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنَتِ فَكَفَرُوا فَأَخَذَهُمُ اللهُ إِنَّهُ قَوِيٌّ شَدِيدُ الْعِقَابِ (المومن : 22، 23 ) کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی کہ وہ دیکھ لیتے کہ ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے ؟ وہ ان سے قوت میں اور زمین میں نشانات چھوڑنے کے لحاظ سے زیادہ شدید تھے۔پس اللہ نے ان کو بھی ان کے گناہوں کے سبب پکڑا اور انہیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہ تھا۔یہ اس لئے ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول کھلے کھلے نشانات لے کر آتے رہے پھر بھی انہوں نے انکار کر دیا۔پس اللہ نے ان کو پکڑ لیا۔یقیناوہ بہت طاقتور اور سزا دینے میں سخت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جن الہامات کا میں نے ذکر کیا ہے یہ کوئی اپنی طرف سے کوئی دعویٰ نہیں تھا۔یہ الہامات تھے کہ اللہ تعالیٰ میرے ساتھ ہے اور مجھے اُس نے فتوحات کی خبر دی ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی بات منسوب کرنا بہت بڑی بات ہے۔اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو نہیں بخشا جو اللہ تعالیٰ کی طرف بات غلط بات منسوب کریں۔پس جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ خدا تعالیٰ کی تائیدات کو دیکھ رہے ہیں تو یقینا یہ سب باتیں ہمیں اس یقین پر مزید قائم کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ جس طرح آپ کے زمانے میں آپ کے ساتھ تھا اور آپ کی تائید فرماتا رہا آئندہ زمانے میں بھی فرماتارہے گا اور آج بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے فرمارہا ہے اور آج بھی حقائق اور واقعات اس بات کی تائید کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی تائیدات سے نواز رہا ہے۔ہاں جیسا کہ ان آیات سے ظاہر ہے، مخالفین انبیاء اور الہی جماعتوں پر ظلم کرنے والوں کو خدا تعالیٰ ایک مدت تک چھوٹ دیتا ہے پھر ایک روز ضرور پکڑتا ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ کی پکڑ آتی ہے تو پھر کوئی قوت، کوئی طاقت ، کوئی عددی اکثریت کام نہیں آتی۔آج احمد یوں پر سختیاں وارد کرنے والے اور قانون بنانے والے اور کشکول پکڑوانے والے یا نعوذ باللہ احمدیت کے کینسر کو ختم کرنے والوں کے پاس تو تھوڑی سی طاقت ہے جن کو اللہ تعالیٰ جب ختم کرنا چاہے تو ان کو پتہ بھی نہیں لگنا۔جن کی مثالیں اللہ تعالیٰ نے دی ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے ختم کیا ہے وہ تو بہت دولت رکھنے والے تھے۔ان لوگوں کی جو آج ہم پر ظلم کر رہے ہیں، ان کی تو اپنی دولت بھی نہیں ہے۔ملک چلانے کے لئے غیر قوموں کی طرف قرضے کے لئے دیکھتے ہیں۔پس ہمارے حکمرانوں کے لئے بھی اور عوام الناس کے لئے بھی سوچنے کا مقام ہے کہ لاشعوری طور پر ظلم کر کے ، ظلم کا ساتھ دے کر، اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کو اپنی ہر تحریر اور سرکاری کاغذ میں گالیاں دے کر، کیونکہ آجکل پاکستان میں کوئی ایسا کاغذ نہیں ہے، کوئی بھی (document) بنانا ہو، کوئی سند لینی ہو ، کہیں داخلہ لینا ہو، کوئی چیز کرنی ہو تو کوئی ایسا کاغذ نہیں ہے جس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف گند لکھا ہوا نہ ہو اور یہ نہ کہا جائے کہ اگر تم مسلمان ہو تو اس پر دستخط کرو۔بازاروں اور دفتروں یا پارکوں میں بڑے بڑے غلیظ گالیوں کے پوسٹر لگا کر یہ سب لوگ بہت بڑے گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔جو خاموش ہیں وہ بھی لاشعوری طور پر گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔یا تو شرافت ختم ہو گئی ہے یا خدا تعالیٰ پر یقین نہیں رہا۔غلط رنگ