خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 494 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 494

خطبات مسرور جلد نهم 494 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 ستمبر 2011ء میں امید کرتا ہوں کہ یہ سب قربانیاں اس سوچ کے ساتھ ہوئی ہوں گی کہ ہم نے مسجد کو آباد کرنا ہے اور آباد اُس طریق پر کرنا ہے جو اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے۔اپنے ایمان میں کامل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے ، اپنے اندر اللہ تعالیٰ کا خوف اور خشیت پیدا کرتے ہوئے، حقوق العباد کی ادائیگی کی سوچ رکھتے ہوئے اعمالِ صالحہ بجالانے کے معیار حاصل کرتے ہوئے، اپنے بچوں اور نسلوں میں بھی مسجد اور خدا کی محبت پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے پھر اسی طرح اس زمانے میں جو اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان کرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کو بھیجا ہے ، اُس کے ہاتھ مضبوط کرتے ہوئے، اُس کے مشن کو آگے چلانے کے لئے بھر پور کوشش کرتے ہوئے یہ پیغام پہنچانے کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے، دعوت الی اللہ کی طرف توجہ دیتے ہوئے۔اسے آباد کرنا ہے۔پس جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے یہ مسجد ہم پر بہت بڑی ذمہ داری ڈال رہی ہے۔ہم نے مسجد بنا کر اپنے اوپر عائد ذمہ داریوں کو بہت وسعت دے دی ہے۔اگر اس ذمہ داری کو ادانہ کر سکے تو خدا تعالیٰ کے پیار کی نظر سے محروم ہو سکتے ہیں۔اللہ نہ کرے کبھی ایسا ہو۔پس جہاں ہمارے لئے یہ ایک بہت بڑی خوشی ہے کہ ناروے میں پہلی احمد یہ مسجد تعمیر ہوئی ہے وہاں فکر کا مقام بھی ہے۔اللہ کرے کہ ہر احمدی اس فکر کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے فرائض ادا کرنے والا ہو، اپنی ذمہ داریاں نبھانے والا ہو ، بڑی بڑی خطیر رقمیں پیش کر کے اس مسجد کی جو تعمیر کی گئی ہے اور اُسے خوبصورت بنایا ہے اور کسی نے لاکھوں کرونر خرچ کر کے کارپٹ ڈلوا دیا ، کسی نے لاکھوں کرونر خرچ کر کے فرنیچر دے دیا۔تمام مسجد کے کمپلیکس کے لئے فرنیچر مہیا کر دیا، تو یہ ایک دفعہ کی قربانی نہ ہو یا ایک دفعہ کی قربانی پر یہ لوگ خوش نہ ہو جائیں، صرف خوبصورت فرنیچر اور سجاوٹ دیکھ کر یہ نہ سمجھیں کہ یہ ہمارے لئے کافی ہو گیا ہے بلکہ اس کی اصل خوبصورتی کو قائم رکھنے والے ہوں جو پانچ وقت کی نمازوں سے پیدا ہوتی ہے۔ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے مسجدوں کی تعمیر کا ذکر ہو رہا تھا تو آپ نے فرمایا کہ:۔مسجدوں کی اصل زینت عمارتوں کے ساتھ نہیں ہے بلکہ ان نمازیوں کے ساتھ ہے جو اخلاص کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں ورنہ یہ سب مساجد ویران پڑی ہوئی ہیں۔“ (اُس زمانے میں ویران تھیں) ”رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد چھوٹی سی تھی۔کھجور کی چھٹڑیوں سے اس کی چھت بنائی گئی تھی اور بارش کے وقت چھت میں سے پانی ٹپکتا تھا۔مسجد کی رونق نمازیوں کے ساتھ ہے۔“ فرمایا ”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں دنیا داروں نے ایک مسجد بنوائی تھی۔وہ خدا تعالیٰ کے حکم سے گرادی گئی۔اس مسجد کا نام مسجد ضرار تھا۔یعنی ضرر رساں۔اس مسجد کی زمین خاک کے ساتھ ملا دی گئی تھی۔مسجدوں کے واسطے حکم ہے کہ تقویٰ کے واسطے بنائی جائیں۔“ ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 491 مطبوعہ ربوہ) پس یہ تقویٰ ہے جو ہم نے اپنے اندر پیدا کرنا ہے اور اس کا بار بار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اظہار فرمایا ہے۔آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ :۔