خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 34
خطبات مسرور جلد نهم 34 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 جنوری 2011ء ”جو لوگ ناحق خدا سے بے خوف ہو کر ہمارے بزرگ نبی حضرت محمد مصطفی صلی علی کم کو برے الفاظ سے یاد کرتے اور آنجناب پر ناپاک تہمتیں لگاتے اور بد زبانی سے باز نہیں آتے ہیں، ان سے ہم کیونکر صلح کریں۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ہم شورہ زمین کے سانپوں اور بیابانوں کے بھیڑیوں سے صلح کر سکتے ہیں لیکن ان لوگوں سے ہم صلح نہیں کر سکتے جو ہمارے پیارے نبی پر جو ہمیں اپنی جان اور ماں باپ سے بھی پیارا ہے ، ناپاک حملے کرتے ہیں۔خدا ہمیں اسلام پر موت دے۔ہم ایسا کام کرنا نہیں چاہتے جس میں ایمان جاتا رہے“۔(پیغام صلح روحانی خزائن جلد 23۔صفحہ 459) پھر مخالفین کے الزامات کا ایک جگہ ذکر کرتے ہوئے اور غیرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ : ”میرے دل کو کسی چیز نے کبھی اتناد کھ نہیں پہنچایا جتنا کہ ان لوگوں کے اس ہنسی ٹھٹھانے پہنچایا ہے جو وہ ہمارے رسولِ پاک کی شان میں کرتے رہتے ہیں۔اُن کے دل آزار طعن و تشنیع نے جو وہ حضرت خیر البشر کی ذات والا صفات کے خلاف کرتے ہیں میرے دل کو سخت زخمی کر رکھا ہے۔خدا کی قسم اگر میری ساری اولاد اور اولاد کی اولاد اور میرے سارے دوست اور میرے سارے معاون و مددگار میری آنکھوں کے سامنے قتل کر دیئے جائیں اور خود میرے اپنے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیئے جائیں اور میری آنکھ کی پتلی نکال پھینکی جائے اور میں اپنی تمام مرادوں سے محروم کر دیا جاؤں اور اپنی تمام خوشیوں اور تمام آسائشوں کو کھو بیٹھوں تو ان ساری باتوں کے مقابل پر بھی میرے لئے یہ صدمہ زیادہ بھاری ہے کہ رسولِ اکرم صلی ای کمر پر ایسے ناپاک حملے کئے جائیں۔پس اے میرے آسمانی آقا! تُو ہم پر اپنی رحمت اور نصرت کی نظر فرما اور ہمیں اس ابتلاء عظیم سے نجات بخش“۔( ترجمه عربی عبارت آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن۔جلد 5 صفحہ 15 از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے از سیرت طیبہ صفحہ 41-42) آج بھی بعض اسلام مخالف جو عیسائی پادری ہیں وہ اسلام پر گندے الزامات لگانے سے باز نہیں آتے۔گزشتہ دنوں امریکہ کے جس پادری نے قرآنِ کریم جلانے کا اعلان کیا تھا آج بھی وہ وہی خیالات رکھتا ہے ، خیالات اس کے ختم نہیں ہو گئے۔اس کے یہاں انگلستان میں آنے کا پروگرام تھا۔گزشتہ دنوں اس کا اعلان بھی ہوا تھا۔کسی گروپ نے یا شاید پارلیمنٹ نے اس کو بلوایا تھا۔بہر حال کل کی خبر تھی کہ برطانیہ کی حکومت نے اس بات پر پابندی لگادی ہے کہ ہمارے ہاں مختلف مذاہب کے لوگ ہیں اور ہم کسی قسم کا فساد ملک میں نہیں چاہتے۔اور یہ ہم بر داشت بھی نہیں کر سکتے ، اس لئے تمہیں یہاں آنے کی اجازت نہیں ہے۔یہ حکومت برطانیہ کا بڑا مستحسن قدم ہے۔خدا تعالی آئندہ بھی ان کو انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور باقی دنیا کی حکومتیں بھی اس سے سبق سیکھیں تا کہ دنیا میں فتنہ و فساد ختم ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کئی مختلف موقعوں پر عملی غیرت کا اظہار کس طرح فرمایا۔اس کے ایک دو واقعات پیش کرتا ہوں۔