خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 378 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 378

378 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جولائی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم اللہ تعالیٰ کے فضل سے آہستہ آہستہ یہ قومیں شامل ہو رہی ہیں۔پس یہ لوگ جو آتے ہیں احمدیوں کے ساتھ غیر از جماعت مسلمان اور غیر مسلم بھی شامل ہوتے ہیں اور جہاں یہ پہلی دفعہ شامل ہونے والے احمدی جلسہ کے ماحول سے متاثر ہوتے ہیں وہاں غیر مسلم بھی اپنے تاثرات بیان کرتے ہیں اور جماعتی نظام اور جلسہ کے انتظام سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔بعض کے خیالات کا اظہار آپ جلسے میں سن چکے ہیں۔غیر احمدیوں کے تو تصور سے بھی یہ دور ہے ، باہر ہے کہ اتنے آرام سے، اتنے انتظامات، نہ صرف یہ کہ والنٹیئر ز کے ذریعہ سے ہو رہے ہیں بلکہ ایسے والنٹیئر ز کے ذریعہ سے ہو رہے ہیں جو عام زندگی میں مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے ہیں۔اُن کے ہاں اتنے بڑے مجمعے ہوں تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ انتظام ہو سکے بلکہ فتنہ پردازوں اور شیطان صفت لوگوں کا اتنا دخل ہو جاتا ہے کہ بعضوں کو امن سے رہنا ہی نصیب نہیں ہوتا۔ہمارے ہاں جب یہ سارے کام کرنے والے آرام سے کام کر رہے ہوتے ہیں تو یہ اُن کے لئے بہت متاثر کرنے والی چیز ہے کہ ایسے لوگ جن کا پیشہ مختلف ہے وہ جو کام کر رہے ہیں اُس سے اُن کا ڈور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔مثلاً کھانا پکانے والے وہ لوگ ہیں کہ ان میں سے بعض یہاں اچھے بھلے عہدوں پر کام کرنے والے افسران ہیں۔اچھے سرکاری عہدوں پر فائز ہیں۔اپنے کاروبار کرنے والے ہیں۔اسی طرح دوسرے شعبہ جات ہیں، صفائی وغیرہ جو ہے یا دوسرے بیشمار شعبے ہیں، ہر شعبہ میں کام کرنے والا بے نفس ہو کر کام کرتا ہے۔پس یہ خوبصورتی جو جماعت احمدیہ کے کارکنان کی ہے یہ دوسروں کو متأثر کئے بغیر نہیں رہ سکتی۔پھر بچوں کا پانی پلانا، یہ بھی لوگوں کو بڑا متاثر کرتا ہے۔مختلف جگہوں پر ، مختلف طریقوں سے سکیورٹی ڈیوٹیاں ہیں اور یہ سب کام جو مختلف کارکنان اور کارکنات ہنستے مسکراتے انجام دے رہے ہوتے ہیں غیر وں کو خاص طور پر متاثر کئے بغیر نہیں رہتا۔اور جماعت کے متعلق اُن کے خیالات مزید بہتر ہوتے ہیں۔مثلاً اس دفعہ ترکی کے وفد میں بعض غیر از جماعت آئے ہوئے تھے جو مختلف مذہبی تعلیمات کے یونیورسٹی پروفیسر تھے۔کوئی حدیث کا ماہر تھا، کوئی تصوف کا تو کوئی کسی اور مضمون کا۔جلسہ کے انتظامات دیکھ کر اور ایک پر امن ماحول دیکھ کر بڑے متاثر ہوئے تھے۔بعض کو تو لگتا تھا کہ جب اس معاملہ میں بات کرو تو تھوڑی دیر بولنے کے بعد اُن کے پاس بالکل الفاظ نہیں رہتے تھے اور بعض تو بالکل ہی گنگ ہو گئے تھے۔حیران تھے ، پریشان سے لگتے تھے کہ یہ کس قسم کے لوگ ہیں۔اُن پر کیونکہ ابھی اپنے معاشرے کا خوف ہے اس لئے بہر حال احمدیت قبول کرنے کی تو شاید ابھی انہیں جرات نہ ہو لیکن جلسہ کے بعد مجھے امید ہے کہ وہ مخالفین کو خود ہی جواب دینا شروع کر دیں گے، کم از کم حقیقت اُنہوں نے دیکھ لی ہے۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں میں سے ایک بہت بڑا فضل ہے کہ اللہ تعالیٰ اس جلسہ کے ذریعہ سے غیروں کے شکوک و شبہات دور فرماتا ہے۔اور یہ جلسہ بعض سعید روحوں کی رہنمائی کا بھی باعث بنتا ہے۔غیر وں میں سے اور اسی طرح اپنوں میں سے بھی جو لوگ مجھے ملے ہیں یہ سب کارکنان کے شکر گزار ہیں۔اُنہوں نے اس کا بہت اظہار کیا۔تو اُن کی طرف سے میں بھی کارکنان اور کار کنات تک اُن کے شکریہ کے