خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 357
357 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 جولائی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم جہاں آج کل حضرت میاں بشیر احمد صاحب رہتے ہیں تو خواجہ کمال الدین صاحب نے لنگر سے ایک بکرے کا گوشت لیا اور تین سیر گھی، کچھ شلجم اور ایک دیگ میں چڑھا کر رات کے وقت پکانا شروع کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اتفاق سے ساڑھے گیارہ بجے مہمانوں کو دیکھنے تشریف لائے۔دیگ کو دیکھ کر فرمایا کہ یہ کیا ہے ؟ کسی نے عرض کیا کہ حضور ! یہ شب دیگ ہے۔فرمایا شب دیگ کیا ہوتی ہے ؟ اس نے کہا کہ حضور ! کچھ گھی ہے، کچھ گوشت، اور کچھ شلجم یہ تمام رات پکیں گے۔فرمایا مجھے تو کچھ ناپسند ہی ہے کہ لنگر سے الگ پکانا ہو۔( کہ لنگر میں ایک کھانا پک رہا ہے کسی کے لئے اُس سے الگ ایک پکایا جائے) خیر اُس کے بعد حضور تو چلے گئے لیکن جب یہ سب لوگ سو گئے اور دیگ کے نیچے سے آگ ٹھنڈی ہو گئی تو کہتے ہیں کہ دس بارہ گتے آگئے اور انہوں نے دیگ کو اوندھا کیا اور گوشت کھانا شروع کر دیا۔جب وہ آپس میں لڑنے لگے تو ان کی نیند کھل گئی۔انہوں نے کتوں کو ہٹایا اور دیکھا کہ دیگ میں بہت کم سالن رہ گیا ہے۔اور حضرت صاحب سے عرض کیا کہ ہم یہ سالن چوہڑوں کو دے دیتے ہیں۔فرمایا کہ پہلے ان کو کہہ دینا کہ یہ کتوں کا جوٹھا ہے پھر اُن کا دل چاہے تو لے جائیں، چاہے نہ لے جائیں۔جب چو ہڑوں سے جا کر پوچھا تو انہوں نے کہا کہ تو بہ توبہ۔ہم گشتوں کا جوٹھا کیوں کھانے والے ؟ غرض دیگ کو پھینک دیا گیا۔خواجہ کمال دین صاحب جنہوں نے بڑے شوق سے اپنے کھانے کے لئے لنگر سے ہٹ کے یہ دیگ پکوائی تھی، اُن کے منہ سے کہتے ہیں کہ بے اختیار نکلا کہ ”مرزا جی دی نظر لگ گئی اے“۔(ماخوذ ازر جسٹر روایات صحابہ جلد نمبر 9 صفحہ 46-47 غیر مطبوعہ ) کھانے کو نہیں ملا بیچاروں کو۔حضرت ملک غلام حسین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ”مولوی عبد الرحمن صاحب شہید افغانستان سے آئے تو حضور سے ملاقات کرنی چاہی۔کسی شخص نے اُن کو کہا کہ میاں غلام حسین صاحب ملاقات کرایا کرتا ہے اسے کہو۔وہ مجھے ملے اور فرمایا کہ حضرت صاحب سے ملاقات کرنی ہے۔میں نے کھانا کھلایا۔پھر فرمایا کہ حضرت صاحب سے ملنا ہے آپ اطلاع کریں۔(مولوی عبد الرحمن صاحب نے کھانے کے بعد کہا کہ میں نے حضرت صاحب سے ملنا ہے ، آپ اطلاع کریں۔کہتے ہیں) قریباً ایک بجے کا وقت تھا، میں اندر گیا اور دروازہ کھٹکھٹایا، کسی لڑکے نے باری ( یعنی کھڑ کی) کھولی۔میں نے عرض کی کہ حضرت جی ! فرمایا جی۔میں نے عرض کیا کہ ایک آدمی کابل سے آئے ہیں، مولوی عبد الرحمن اُن کا نام ہے ملنا چاہتے ہیں۔فرمایا ابھی اذان ہو گی مسجد میں مل لیں گے۔میں نے عرض کیا کہ حضور ! وہ الگ ملنا چاہتے ہیں۔حضور اندر تشریف لے گئے اور تھوڑی دیر کے بعد واپس آکر فرمایا کہ جاؤ اُن کو بلا لاؤ۔میں اُن کو اندر لے گیا۔وہ ڈرتے ڈرتے اندر گئے۔اُن کے پاس ایک بہت بڑا سردہ کچھ بادام کچھ چلغوزے اور کچھ اور میوہ جات تھے۔یہ چیزیں انہوں نے حضرت کے حضور پیش کیں۔حضور تخت پوش پر تشریف فرما تھے۔فرمایا مولوی صاحب! اتنی تکلیف آپ نے کیوں کی ہے ؟ آپ کو تو بہت فاصلہ سے یہ چیزیں اُٹھانی پڑی ہوں گی۔عرض کیا کہ حضور ہر گز کوئی تکلیف نہیں ہوئی بلکہ بڑی خوشی سے میں آیا ہوں۔ریل