خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 316
خطبات مسرور جلد نهم 316 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جون 2011ء اور اللہ تعالیٰ نے پھر آپ کو بیعت میں آنے کے بعد بہت بڑا مقام عطا فرمایا۔حضرت مستری اللہ دتہ صاحب ولد صدر دین صاحب سکنہ بھانبڑی ضلع گورداسپور کہتے ہیں کہ حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ہمارا دوست اگر تمہارے پاس آیا کرے تو اس کی خاطر تواضع کیا کرو۔ذمہ دار مہمان قادیان میں آگئے تھے ، گرمیوں کے دن تھے اُس وقت صبح آٹھ بجے کا وقت ہو گا۔حضرت صاحب نے باور چی سے پوچھا کچھ کھانا ان کو کھلایا جائے۔باورچی نے کہا کہ حضور ! رات کی بچی ہوئی باسی روٹیاں ہیں۔حضور نے فرما یا کچھ حرج نہیں لے آؤ۔یعنی جب بھی کوئی دوست آئیں ، اُن کو کھانا کھلایا کرو۔روٹیاں اگر فوری تیار نہیں ہو سکتیں وہی باسی لے آؤ۔چنانچہ باسی روٹیاں لائی گئیں۔حضور نے بھی کھائیں اور ہم سب مہمانان نے بھی کھا لیں۔غالباً وہ مہمان قادیان سے واپس اپنے گاؤں اٹھوال جانے والے تھے۔حضور نے فرمایا کہ باسی کھالینا سنت ہے۔(ماخوذ از روایات حضرت مستری اللہ دتہ صاحب رجسٹر روایات جلد 4 صفحہ 106 غیر مطبوعہ ) اب بعض دفعہ بعض لوگ ناراض ہو جاتے ہیں یہاں تو خیر Pita Bread یا جو بڑی بنی بنائی روٹی ملتی ہے وہ ویسے بھی مشینوں کی بنی ہوئی بازاروں میں ہوتی ہے اور باسی ہوتی ہے لیکن پھر بھی سالن وغیرہ کے لئے بعض دفعہ ہوتا ہے۔لیکن باسی سالن کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ انتظامیہ باسی سالن سڑا کر ان کو کھلانا شروع کر دے۔روایات حضرت محمد علی اظہر صاحب جالندھر، مولوی غلام قادر صاحب کے بیٹے ہیں، کہتے ہیں کہ 1906ء کا جلسہ سالانہ مسجد اقصیٰ میں ہوا تھا جس کا صحن بھرتی ڈال کر بہت وسیع کر لیا گیا تھا۔اس کے جنوب مشرقی کونے پر اس محلہ کے ساتھ جس میں آج کل سلسلہ کے دفاتر ہیں کسی ہندو برہمن کا ایک کچا مکان تھا۔جگہ کی تنگی کی وجہ سے کچھ دوست اس مکان کی چھت پر بھی نماز کے لئے کھڑے ہو گئے تھے۔اُس پر صاحب مکان نے حضرت اقدس کو اور جماعت کو گالیاں دینی شروع کیں۔ہندو تھا گالیاں دینی شروع کر دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نماز سے فارغ ہوتے ہی جماعت کو صبر کی تلقین کی اور اس چھت پر جانے سے منع فرمایا۔مزید احتیاط کے لئے منڈیر پر اونچی دیوار بنوا دی گئی۔کچھ عرصے کے بعد تار کا جنگلہ لگوا دیا گیا تا کہ کوئی دوست اس چھت پر بھول کر بھی نہ جائے۔آخر وہ مکان برباد ہوا، وہ بھی ایک الہام تھا اور مالکوں کو اس کو فروخت کرنا پڑا اور جماعت نے وہ خریدا اور اب وہ مسجد اقصیٰ کا ایک جزو ہے۔(ماخوذ از روایات حضرت محمد علی اظہر صاحب رجسٹر روایات جلد 5 صفحہ 13 غیر مطبوعہ) پہلے تو وہ ایک حصہ تھا صحن کے ساتھ دفاتر تھے۔اب دو سال پہلے اللہ کے فضل سے وہاں جب مسجد اقصیٰ کی توسیع ہوئی ہے وہ سارا حصہ اس میں آگیا ہے اب مسجد کے اُس حصے میں ہی تقریب دو اڑھائی ہزار آدمی نماز پڑھ لیتا ہے۔حضرت چراغ محمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ولد چوہدری امیر بخش صاحب کھارے کے رہنے والے تھے۔یہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ حضور نے مسجد اقصیٰ میں ایک بڑی لمبی تقریر فرمائی۔ظہر کے بعد کا وقت تھا۔میں مسجد کی شمالی جانب کی دیوار پر بیٹھا تھا۔میرے ساتھ گاؤں کا ایک اول درجے کا مخالف تھا جس کے زیر سایہ اس وقت گاؤں کا ایک آدمی تھا جو سخت مخالف تھا۔جوں جوں حضور تقریر فرماتے جاتے تھے وہ بار بار سر ہلاتا اور سُبْحَانَ الله سُبْحَانَ اللہ کہتا تھا اور ساتھ یہ بھی کہتا جاتا تھا کہ میں اب حضور کی مخالفت نہیں کروں گا۔حضور جو