خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 300
خطبات مسرور جلد نهم 300 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 جون 2011ء فضلوں کے بغیر ممکن نہیں۔پس اللہ تعالیٰ سے ہی ہدایت چاہنے کی ضرورت ہے اور اللہ تعالیٰ سے ہی مدد چاہنے کی ضرورت ہے۔پس اگر ہم نے زمانے کے امام کے ساتھ عہد بیعت کو حقیقت میں نبھانا ہے تو اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی حقیقت کو سمجھنے کی بھی ضرورت ہے۔اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ایک تڑپ کے ساتھ اس دعا کو مانگنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ اس امام کے ساتھ جڑنے کے بعد صرف اتنا ہی کافی نہیں ہے کہ ہم نے زمانے کے امام کی بیعت کر لی اور بس۔بلکہ پھر اُس نظام کے ساتھ بھی تعلق جوڑنا ہو گا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قائم فرمایا ہے اور جس کا بیان آپ نے بڑی وضاحت کے ساتھ 'رسالہ الوصیت میں فرما دیا کہ وہ خلافت کا نظام ہے۔ایک شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مان لیتا ہے لیکن اگر اس آئندہ آنے والی قدرت کا انکاری ہے یا طاعت در معروف کے عہد میں حیل و حجت سے کام لیتا ہے تو پھر وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ خادمانہ تعلق کو بھی توڑنے والا بن گیا ہے اور پھر ان برکات سے بھی محروم ہو گیا ہے جو آپ کے ساتھ مجڑے رہنے سے ملتی ہیں۔غیر مبائعین کی مثال ہمارے سامنے بڑی واضح مثال ہے۔انہوں نے بیشک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت تو کی یا بیعت کرنے کا دعویٰ تو کیا لیکن آپ کے اس پیغام کہ خلافت کے نظام کو بھی اُسی قدرت کا تسلسل سمجھنا جو اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعے سے جاری فرمائی ہے ، کو اپنے ذاتی مفادات کی وجہ سے نہ سمجھے یانہ سمجھنے کی کوشش کی۔پس خوش قسمت ہیں ہم میں سے وہ جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قبول کرنے کے بعد پھر دوسری قدرت کے ساتھ بھی تعلق اخوت اور وفا کو قائم کیا۔لیکن ایک احمدی کے لئے یہی اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی انتہا نہیں ہے۔جیسا میں نے کہا، محاسبہ نفس ہر وقت کرتے رہنا چاہئے۔اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا ایک تسلسل ہے آگے بڑھتے چلے جانے کا۔اور ہر وقت ہدایت کی راہ کی تلاش میں رہتے ہوئے اس کے لئے استقامت کی دعا کرناہی ایک مومن کی شان ہے۔عام انسان جو روحانیت کے اعلیٰ مدارج پر نہیں ہے اُس کی تو ہر وقت شیطان سے لڑائی ہے ، یا یہ کہ لیں کہ باوجو د نیکیاں بجالانے کے شیطان اُس کو ورغلانے کے پیچھے لگا ہوا ہے۔باوجو د حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے کے ، باوجو د خلافت سے وفا کا تعلق جوڑنے کے ، باوجو دمالی قربانیوں میں حصہ لینے کے باوجود جماعتی خدمات اور وقار عملوں میں حصہ لینے کے کئی لوگ ایسے ہیں جو مجھے مل کر خود اپنے منہ سے کہتے ہیں کہ نمازوں میں سست ہوں۔اور نماز جو انسان کی پیدائش کا بنیادی مقصد ہے اُس میں اگر سستی ہے تو پھر وہ آہستہ آہستہ دوسری نیکیوں کو بھی چھڑا لیتی ہے۔اور ایسے بھی ہیں جو بہت سی نیکیاں تو کرتے ہیں، نمازیں بھی پڑھتے ہیں لیکن اپنے گھر میں، اپنے اہل کے ساتھ سلوک میں اچھے نہیں ہیں۔یہ بھی ہدایت کے راستے سے بھٹکنے والے لوگ ہیں۔اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی بیشک دعا کر رہے ہوں لیکن تمام حکموں پر عمل کرنے والے نہیں۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ہے کہ تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے اہل کے ساتھ اچھا ہے۔(سنن ابن ماجہ کتاب النکاح باب حسن معاشرة النساء حديث (1977) پس ہدایت کے راستے تلاش کرنے والا ہر چھوٹی سے چھوٹی بات کو سامنے رکھ کر، اُس عشق و محبت کو سامنے رکھ کر جو ایک مومن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونا چاہئے ، یہ کوشش