خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 236
خطبات مسرور جلد نهم 236 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 مئی 2011ء بہر حال اگر کسی کے دل میں یہ بات ہے تو ہر اُس شخص کو جو اپنے آپ کو احمدی کہتا ہے یہ واضح ہونا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق نبی اللہ ہیں۔اور اس بارہ میں اگر دنیا کے کسی بھی خطے میں رہنے والے شخص کے دل میں، جو اپنے آپ کو احمدی کہتا ہے ، انقباض ہے تو اس کو ور کر لینا چاہئے۔جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے اس اقتباس میں فرمایا ہے جو میں نے پڑھا ہے کہ آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں مگر بغیر کسی شریعت کے اور نبی کریم اور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں اور آپ کا نام پاکر اور آخَرِيْنَ مِنْهُم لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (الجمعة: 4) کی قرآنی پیشگوئی کے مطابق۔جہاں تک پاکستان کے احمدیوں کا سوال ہے یا انڈونیشیا کے احمدیوں کا سوال ہے اُن کو تو ظلم کی چکی میں پیسا ہی اس لئے جارہا ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نبی کیوں کہتے ہیں، نبی کیوں سمجھتے ہیں ؟ اس لئے سوائے اتحاد کا مداہنت اختیار کرنے والے کے عموم کے رنگ میں پاکستانی احمدیوں کے بارہ میں یہ کہا ہی نہیں جا سکتا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نبی نہیں سمجھتے۔بلکہ ہمارے مخالفین تو مبالغہ کرتے ہوئے احمدیوں پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ نعوذ باللہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو آخری نبی مانتے ہیں۔حالانکہ کوئی احمدی کبھی یہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی اور آخری شرعی نبی ہو سکتا ہے اور آپ سے بڑھ کر کسی کا مقام ہو سکتا ہے۔یہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ہے جو احمدی بیان کرتے ہیں اور جو ہر احمدی کے ایمان کا حصہ ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے وہ بلند مقام عطا فرمایا ہے اور وہ مر تبہ عطا فرمایا ہے جس کے ماننے والے کو اور جس سے عشق کرنے والے کو اور جس کی حقیقی رنگ میں پیروی کرنے والے کو اور جس کا امتی بننا فخر سمجھنے والے کو اللہ تعالیٰ نے نبوت کا مقام عطا فرمایا۔بہر حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آپ ہی کی پیروی میں نبی اللہ ہیں۔اگر ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نبی اللہ نہ ما نہیں تو پھر ہمارا یہ دعویٰ بھی غلط ہو گا کہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور اسلام کا غلبہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے ذریعے ہو گا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ کا وعدہ رسول کے ساتھ ہے جیسا کہ اس آیت میں ظاہر کیا گیا ہے۔کسی مجدد یا کسی مصلح کے ساتھ نہیں ہے۔اسلام کے آخری زمانہ میں غلبہ کا وعدہ مومنین کی اُس جماعت کے ساتھ ہے جو ”وَ أَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بهم (الجمعة:4)‘ کی مصداق بنے والی ہے۔تبھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مومنوں کو تاکید فرمائی تھی اور یہ نصیحت فرمائی تھی کہ جب مسیح و مہدی کا ظہور ہو تو خواہ برف کی سلوں پر سے بھی گزر کر جانا پڑے تو جانا اور جا کر میر اسلام پہنچانا۔(سنن ابن ماجه کتاب الفتن باب خروج المهدى حديث : 4084) کیوں؟ اس لئے کہ اس سے اپنے ایمان کو بھی مضبوط کرو گے اور اسلام کے غلبہ کی جو آخری جنگ لڑی جانے والی ہے ، جو تلوار سے نہیں، جو توپ سے نہیں بلکہ دلائل و براہین سے لڑی جانے والی ہے، اُس میں حصہ دار بن کر میری حقیقی پیروی کرنے والے بن جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بن جاؤ گے۔حقیقی مومن کہلانے والے بن جاؤ گے۔