خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 230 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 230

230 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 6 مئی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم دعوے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہی اللہ تعالیٰ کا پیارا بن سکتی ہے۔یہ تمام مذہب والوں کو ایک چیلنج ہے۔اسی طرح ہمارے لئے بھی اس میں یہی حکم ہے کہ نام کا اسلام ہی نہیں بلکہ پیروی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت ہے۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ وجود ہیں جو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی صفات کو جاننے والے ہیں اور اُس کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے والے تھے۔پس اگر آپ کی شفاعت سے حصہ لینا ہے تو پھر آپ کی سنت پر عمل کرنا ہو گا، آپ کے عمل کو دیکھنا ہو گا۔اپنے اوپر قرآن کریم کی حکومت کو لاگو کرنا ہو گا۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے یہی فرمایا ہے کہ كَانَ خُلُقُهُ القران۔یہی آپ کا امتیاز اور آپ کی شان تھی کہ آپ کا ہر فعل، ہر قول، ہر عمل قرآن کریم کے مطابق تھا۔(مسند احمد بن حنبل مسند عائشه جلد 8 صفحہ 305 حدیث 25816۔مطبوعہ عالم الكتب بیروت ایڈیشن 1998) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ : ” اور قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے بارے میں مختلف مقامات میں ذکر فرمایا گیا ہے جیسا کہ ایک جگہ فرماتا ہے۔قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرُ لَكُمْ ذُنُوبَكُمُ (آل عمران: 32) ترجمہ: کہہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت کرے اور تمہارے گناہ بخشے۔اب دیکھو کہ یہ آیت کس قدر صراحت سے بتلا رہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنا جس کے لوازم میں سے محبت اور تعظیم اور اطاعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔اس کا ضروری نتیجہ یہ ہے کہ انسان خدا کا محبوب بن جاتا ہے اور اس کے گناہ بخشے جاتے ہیں یعنی اگر کوئی گناہ کی زہر کھا چکا ہے تو محبت اور اطاعت اور پیروی کے تریاق سے اس زہر کا اثر جاتا رہتا ہے اور جس طرح بذریعہ دوا مرض سے ایک انسان پاک ہو سکتا ہے ایسا ہی ایک شخص گناہ سے پاک ہو جاتا ہے اور جس طرح نور ظلمت کو دور کرتا ہے اور تریاق زہر کا اثر زائل کرتا ہے اور آگ جلاتی ہے ایسا ہی سچی اطاعت اور محبت کا اثر ہوتا ہے“۔(عصمت انبیاء علیہم السلام۔روحانی خزائن جلد نمبر 18 صفحہ 680 جدید ایڈیشن) پس یہ سچی اطاعت اور پیر وی جو ایک مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کرنے کی کوشش کرتا ہے اور کرنی چاہئے۔اس سے آپ کا امتی ہونے کا صحیح حق ادا ہوتا ہے اور اسی وجہ سے ایک انسان، ایک مسلمان، ایک حقیقی مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت کے لئے کی گئی دعاؤں کا وارث بنتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس مضمون کو مزید کھول کر اور اس کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ” یہ ہر گز نہ سمجھنا چاہئے کہ شفاعت کوئی چیز نہیں۔ہمارا ایمان ہے کہ شفاعت حق ہے اور اس پر یہ نص صریح ہے وَصَلَّ عَلَيْهِمْ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلوتَكَ سَكَنَّ لَهُمْ (التوبه: 103)۔یہ شفاعت کا فلسفہ ہے۔یعنی جو گناہوں میں نفسانیت کا جوش ہے وہ ٹھنڈا پڑ جاوے۔شفاعت کا نتیجہ یہ بتایا ہے کہ گناہوں کی زندگی پر ایک موت وارد ہو جاتی ہے اور نفسانی جوشوں اور جذبات میں ایک برودت آجاتی ہے۔جس سے گناہوں کا صدور بند ہو کر اُن کے بالمقابل نیکیاں شروع ہو جاتی ہیں۔پس شفاعت کے مسئلہ نے اعمال کو بیکار نہیں کیا بلکہ اعمال حسنہ کی تحریک کی