خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 228 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 228

خطبات مسرور جلد نهم 228 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 6 مئی 2011ء کرنی ہے اور کسی کو اولاد کیا دینی ہے ؟ پس اللہ ہی ایک ذات ہے جو سب طاقتوں کی مالک ہے۔ہمیشہ سے ہے ، ہمیشہ رہے گی۔اس آیت میں ابتدا میں ہی پہلی یہ بات بتادی کہ اللہ ہی تمہارا معبود ہے، اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔اس لئے اگر اس کی صفات سے فیض پانا ہے تو ظاہری شرک اور مخفی شرک ہر ایک سے بچو۔پھر فرمایا یہ بھی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی صفت ہے کہ اسے نیند نہیں آتی نہ اونگھ آتی ہے۔اس کی ہر وقت اپنی مخلوق پر نظر ہے اور تمام نظام جو ہے وہ اس کو وہ چلا رہا ہے اور اس نظام کو چلانے سے تھکتا نہیں۔ہمارے پیر فقیر تو تھک جاتے ہیں بلکہ اکثر تو آج کل کے ، آجکل کیا، جو بھی گدی نشین پیر بنے ہوئے ہیں وہ تو نمازوں اور عبادتوں کی طرف توجہ ہی نہیں دیتے اور اُن کا کام تو صرف کھانا پینا، عیاشیاں کرنا، اور پر خوری کرنا ہے۔پھر اس آیت میں شفاعت کے پہلو کو بیان کیا گیا ہے۔گو شفاعت کا مسئلہ صحیح ہے۔شفاعت ہوتی ہے۔پچھلے خطبہ کا جو میں نے ذکر کیا تو اس کے بعد مجھے کسی نے پوچھا تھا کہ اس طرح آپ نے ظاہر کیا کہ جس طرح کسی قسم کی شفاعت ہو ہی نہیں سکتی۔شفاعت ہوتی ہے لیکن ان پیروں فقیروں کو اللہ تعالیٰ نے حق نہیں دیا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ باذْنِہ۔اللہ تعالیٰ کے اذن سے شفاعت ہو سکتی ہے۔آج مسلمانوں میں بھی کون یہ دعویٰ کر سکتا ہے۔بیشک اسلام خدا تعالیٰ کا آخری اور مکمل دین ہے لیکن نہیں کہہ سکتے کہ اُس پر پورا عمل کرنے والے کو بھی اللہ تعالی کی طرف سے شفاعت کا اذن ہے۔جنہوں نے مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نہیں مانا وہ تو اللہ تعالی کے حکم سے ویسے ہی باہر نکل رہے ہیں۔جو احمدی ہیں، کتنے بھی بڑے بزرگ ہوں، اللہ تعالیٰ سے تعلق ہو لیکن کوئی شفاعت کے اذن کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا خود اپنا یہ حال ہے۔ایک واقعہ آپ نے بیان فرمایا کہ حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے بیٹے ایک دفعہ شدید بیمار ہو گئے۔انہوں نے دعا کی درخواست کی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت نواب محمد علی خان صاحب کی قربانیوں کو سامنے رکھتے ہوئے اُن کے لئے جب صحت کی دعا کی تو یہی جواب ملا کہ صحت نہیں ہو سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کہا کہ دعا نہیں تو میں شفاعت کرتا ہوں۔اُس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب ملا کہ تم کون ہوتے ہو بغیر اذن کے شفاعت کرنے والے۔کہتے ہیں اس بات پر میں کانپ کر رہ گیا اور پھر جب اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ حالت دیکھی تو تھوڑی دیر کے بعد ہی فرمایا کہ انگ اَنْتَ الْمَجَازُ - کہ تجھے اس شفاعت کی اجازت دی جاتی ہے۔اور پھر انہوں نے دعا کی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے وہ بیٹے بڑا لمبا عرصہ زندہ رہے۔(ماخوذ از حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 229) ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اذن ہو گا تب آپ شفاعت کریں گے۔ایک لمبی حدیث ہے اس کا ایک حصہ ہے۔(سنن الدارمى كتاب الرقاق باب فى الشفاعة حديث 2806)