خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 216
216 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 اپریل 2011ء خطبات مسرور جلد نهم برکینا فاسو سے ہمارے مشنری انچارج لکھتے ہیں کہ ہمارے ایک معلم نے اپنے ایک زیر تبلیغ دوست زیلا ابو بکر کو کہا کہ اگر تم جماعت احمدیہ کی سچائی پر کھنا چاہتے ہو تو میں ایک نسخہ بتاتا ہوں۔وہ یہ ہے کہ تم روزانہ بلاناغہ دو نوافل ادا کر و اور اس میں صرف اور صرف خدا تعالیٰ سے جماعت احمدیہ کی سچائی دریافت کرو۔انشاء اللہ خدا تعالیٰ تمہاری رہنمائی فرمائے گا۔چنانچہ اُس نے ایسا ہی کیا اور ایک دن زیلا ابو بکر صاحب نے خواب دیکھا کہ ایک آدمی جو سفید فام ہے آیا اور کہا کہ اوپر چڑھ آؤ۔لگتا تھا کہ وہ سفید فام زمین سے اوپر کی طرف کرسی پر ہے اور ہمیں بلا رہا ہے۔زیلا ابو بکر صاحب کہتے ہیں خواب میں خاکسار اور ہمارے گاؤں کا امام ساتھ تھے۔جب اس سفید فام آدمی نے ہمیں اوپر چڑھنے کی دعوت دی تو خاکسار تیزی کے ساتھ اوپر چلا گیا اور امام صاحب نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور کہا کہ میں نہیں جاتا۔جب اُن کو تصاویر دکھائی گئیں تو انہوں نے کہا کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی تھے جو ان کی خواب میں آئے تھے اور جو ہمیں ایمان لانے کی طرف بلا رہے تھے۔چنانچہ انہوں نے بیعت کرلی۔محمود عیسی صاحب شام کے ہیں۔کہتے ہیں کہ میرا ایم۔ٹی۔اے سے تعارف میرے ایک کزن کے ذریعے ہوا جو ڈاکٹر ہے اور مکذبین میں شامل ہے۔اُس نے بطور تمسخر بتایا کہ ایک شخص امام مہدی ہونے کا دعویدار ہے اور اس کے متبعین ہر جگہ موجود ہیں اور اس کی وفات پر سو سال گزر چکے ہیں۔میں نے اُس سے ایم۔ٹی۔اے کے بارے میں معلومات لیں۔شروع میں مجھے بہت دھکا لگا اور مایوسی ہوئی کہ امام مہدی آکر چلا بھی گیا اور ہمیں کوئی خبر نہ ہوئی۔جبکہ میں خاص طور پر انتظار کر رہا تھا کہ وہ آکر اُمتِ مسلمہ عربیہ کو آزادی دلائیں۔میں نے دل میں کہا کہ یہ شخص امت کو آزاد کرانے والا کیسے ہو سکتا ہے جبکہ اس کی کسی نے بیعت نہیں کی۔بہر حال میں نے اپنے کزن سے کہا کہ شاید یہ لوگ سچے ہوں لیکن اس نے میری بات نہیں سنی۔لکھتے ہیں کہ میں کوئی صالح انسان نہیں۔کوئی نیک انسان نہیں ہوں۔بلکہ میں لامذہب آدمی تھا۔نماز بھی نہ پڑھتا تھا اور شراب بھی پی لیتا تھا لیکن اس کے باوجود مجھے ہمیشہ حق و عدل کی تلاش رہی۔چار سال قبل میں نے خواب میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔آپ اپنے خیمے میں تشریف فرما ہیں اور آپ کے گرد صحابہ کرام جمع ہیں۔میں نے آگے ہو کے دیکھا تو ایک چمکتے دمکتے چہرے والا انسان ہے۔جب میں نے ارد گرد کے لوگوں سے پوچھا کہ اس شخص کی تو داڑھی نہیں تو انہوں نے کہا کہ یہ بعثت سے پہلے رسول کی شکل ہے۔میں جب بیدار ہوا تو بہت خوش تھا۔پھر دو سال قبل جب میں نے ایم۔ٹی۔اے دیکھنا شروع کیا تو پتہ چلا کہ وہ شکل جو میں نے خواب میں دیکھی تھی وہ سید نا حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام ہیں۔میں نے بڑے تعجب سے اپنی بیگم کو بتایا کہ فرق یہ تھا کہ حضور کی داڑھی ہے۔باقی شکل وہی تھی۔کہتے ہیں میں نے بیعت میں تا خیر اس لئے کی کہ میرے اعمال اچھے نہیں تھے اور میں جماعت میں شامل ہو کر جماعت کو بد نام نہیں کرنا چاہتا تھا۔یہ سوچ ہے نئے آنے والوں کی اور یہ لمحہ فکریہ ہے ہم پر انوں کے لئے بھی۔کہتے ہیں میں ایک لبنانی رسالہ ”عشتروت“ میں لکھتا ہوں اور شعر بھی کہتا ہوں۔میرا ارادہ تھا کہ دیوان نشر کروں۔لیکن جب سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشعار پڑھے ہیں میری زندگی کلیۂ بدل گئی ہے۔آپ کے شعر غیر معمولی ہیں۔