خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 185 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 185

185 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 اپریل 2011ء خطبات مسرور جلد نهم احمدیت کی ترقی اور تبلیغ کے کام اور اسلام کی خوبصورت تعلیم کو احمدیت کے ذریعے دنیا میں پھیلتا دیکھ کر نیک فطرت مسلمانوں کو روزانہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی آغوش میں آتا دیکھ کر بعض مسلمان حکومتوں نے بھی مولویوں کو رقمیں دے کر دنیا میں بھیجا اور پھیلانے کی کوشش کی۔افریقن ممالک میں مدر سے بھی کھولے گئے اور کھولے جارہے ہیں۔اسلامی یونیورسٹیوں کے نام پر ادارے بھی بنائے جارہے ہیں۔کچھ حد تک حکومتوں کی دولت لگ رہی ہے۔اس لئے جو غریب ممالک ہیں، ترقی پذیر ممالک ہیں یا غیر ترقی یافتہ ممالک ہیں ان کی حکومتیں بھی انہیں سہولتیں دے دیتی ہیں تاکہ مزید دولت آئے اور ملک کی معیشت بہتر ہو۔لیکن ان نام نہاد علماء نے جو اس طرح وہاں تبلیغ کرنے جاتے ہیں ، انہوں نے تبلیغی مراکز کے نام پر اصل میں اسلام کی تبلیغ اور مسلمانوں کی تربیت کی کو شش کم کی ہے اور جماعت احمدیہ کے خلاف منصوبہ بندی پر زیادہ زور دیا جارہا ہے۔اور إِلَّا مَا شَاء اللہ یہ اپنی کوششوں میں ناکام ہی ہوتے ہیں اور ہو رہے ہیں، پہلے بھی ہوتے رہے ہیں۔بہر حال اس بہانے ان ملکوں میں بعض جگہ پر غریبوں کی معاشی حالت بہتر ہوئی ہے۔لوگوں پر اسلام کی حقیقی تعلیم جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیغام کے ذریعے کھل جاتی ہے اور ایک دفعہ جب وہ یہ پیغام سمجھ لیتے ہیں تو پھر ہر وہ شخص جو دین کا درد رکھتا ہے، اس پیغام کو اہمیت دیتا ہے اور اس کے لئے ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔جو نور خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اُس کا بندے تو مقابلہ نہیں کر سکتے۔کوئی انسانی کوشش اُس کے مقابلے پر کھڑی نہیں رہ سکتی۔یہ دولتمند حکومتیں چاہے جتنا بھی اسلام کی خدمت کے نام پر احمدیت سے لوگوں کو برگشتہ کرنے کی کوشش کریں ہر عقلمند انسان جو ہے اُس پر سچائی اور جھوٹ ظاہر ہو جاتا ہے۔دنیاوی کو شش چاہے خدا کے نام پر ہی کی جائے، اگر خدا کی منشاء کے خلاف ہو ، تو اس میں برکت پڑ ہی نہیں سکتی۔برکت اُسی میں پڑتی ہے، نیک نتائج اُسی کام کے ظاہر ہوتے ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تائیدات ہوتی ہیں۔ہمارے مبلغین، ہمارے معلّمین اور وہ احمدی جو اِن علاقوں میں رہتے ہیں جہاں ان تائیدات کے نظارے دیکھتے ہیں اور اُن کو ہر لمحہ نظر آرہے ہوتے ہیں۔یہ نظارے اُن کے ایمان میں اضافہ کرتے ہیں۔یہ نظارے ہر طلوع ہونے والے دن میں ان تائیدات کی وجہ سے ان کے ایمانوں میں مضبوطی پیدا کرتے چلے جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی تائید میں خدا تعالیٰ کے ایک زبر دست نشان کا اظہار فرمایا جو ہر روز پورا ہوتا ہے۔آپ براہین احمدیہ کی پیشگوئیوں کا ذکر فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: اس کتاب براہین احمدیہ میں اللہ تعالیٰ مجھے ایک دعا سکھاتا ہے یعنی بطور الہام فرماتا ہے رَبِّ لَا تَذَرُني فَرْدًا وَ اَنْتَ خَيْرُ الْوَرِثِينَ۔یعنی مجھے اکیلا مت چھوڑ اور ایک جماعت بنادے۔پھر دوسری جگہ وعدہ دیتا ہے۔يَأْتِيكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ۔ہر طرف سے تیرے لیے وہ زر اور سامان جو مہمانوں کے لئے ضروری ہے اللہ تعالیٰ خود مہیا کرے گا اور وہ ہر ایک راہ سے تیرے پاس آئیں گے۔“ فرمایا کہ ”اب غور کرو جس زمانہ میں یہ پیشگوئی شائع ہوئی یالوگوں کو بتائی گئی اس وقت کوئی شخص یہاں آتا تھا؟ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ کوئی مجھے جانتا بھی نہ تھا اور کبھی سال بھر میں بھی ایک خط یا مہمان نہ آتا تھا“۔( ملفوظات جلد نمبر 5 صفحہ 128 جدید ایڈیشن)