خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 156
خطبات مسرور جلد نهم 156 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم اپریل 2011ء جنادہ بن امیہ نے کہا کہ ہم عبادہ بن صامت کے پاس گئے۔وہ بیمار تھے۔ہم نے کہا اللہ تمہارا بھلا کرے ہم سے ایسی حدیث بیان کرو جو تم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔اللہ تم کو اس کی وجہ سے فائدہ دے۔اُنہوں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو بلا بھیجا۔ہم نے آپ سے بیعت کی۔آپ نے بیعت میں ہمیں ہر حال میں خواہ خوشی ہو یا نا خوشی، تنگی ہو یا آسانی ہو اور حق تلفی میں بھی یہ بیعت لی کہ بات سنیں گے اور مانیں گے۔آپ نے یہ بھی اقرار لیا کہ جو شخص حاکم بن جائے ہم اُس سے جھگڑانہ کریں سوائے اس کے کہ تم اعلانیہ اُن کو کفر کرتے دیکھو جس کے خلاف تمہارے پاس اللہ کی طرف سے دلیل ہو۔(صحیح مسلم کتاب الامارة باب وجوب طاعة الامراء في غير معصية۔۔حدیث 4771) ان احادیث میں اُمراء اور حکام کی بے انصافیوں اور خلافِ شرع کاموں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے لیکن پھر بھی آپ نے یہ فرمایا کہ ان کے خلاف بغاوت کرنے کا تمہیں حق نہیں ہے۔حکومت کے خلاف مظاہرے ، توڑ پھوڑ اور باغیانہ روش اختیار کرنے والوں کا طرزِ عمل خلافِ شریعت ہے۔اس آخری حدیث کی مزید وضاحت کر دوں کہ اس حدیث کے آخری الفاظ میں جو عربی کے الفاظ ہیں کہ وَأَنْ لَّا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ إِلَّا أَن تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَكُمْ مِنَ اللهِ فِيهِ بُرْهَانُ۔یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ اقرار بھی لیا کہ جو شخص حاکم بن جائے ہم اُس سے جھگڑا نہیں کریں گے سوائے اس کے کہ تم اعلانیہ اس کو کفر کرتے ہوئے دیکھو جس پر تمہارے پاس اللہ کی طرف سے دلیل ہو۔حدیث کے یہ جو آخری الفاظ ہیں ان کے معنی بعض سلفی وہابی اور باقی متشد د دینی جماعتیں یا جو فرقے ہیں وہ یہ لیتے ہیں کہ صرف اُس وقت تک حکام سے لڑائی جائز نہیں جب تک کہ اُن سے کفر بواح نہیں ظاہر ہو جاتا۔(کھلا کھلا کفر ظاہر نہیں ہو جاتا) اگر حاکم سے کفر بواح نظر آجائے تو پھر اس کے ازالے کے درپے ہونا اور اُس سے حکمرانی چھین لینا فرض ہے۔یہی متشدد جماعتیں ہیں جنہوں نے اس پر یہ دلیل سوچ رکھی ہے کہ حکومتوں کے خلاف بغاوت کی جاسکتی ہے۔بلکہ بعض اپنے فتوؤں کو آپس میں ہی اتنا مضبوط کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ فتوے دینے والے یہ کہتے ہیں کہ جن کو ہم نے کافر قرار دے دیا اُن کو جو کافر نہ سمجھے وہ بھی کافر ہے۔اور کافر کو کافر نہ سمجھنے والا بھی کافر ہے۔تو یہ جو تکفیر ہے اس کا ایک لمبا سلسلہ چلتا چلا جاتا ہے۔بہر حال اس حدیث میں اصل الفاظ یہی ہیں کہ تم نے اطاعت کرنی ہے سوائے اس کے کہ ایسی بات کی جائے جو کفر کی بات ہو یا تمہیں کفر پر مجبور کیا جا رہا ہو۔اس کے علاوہ ہر معاملے میں اطاعت ہونی چاہئے اور اُس صورت میں بھی بغاوت نہیں ہے بلکہ وہ بات نہیں مانتی۔بہر حال یہ ان لوگوں کا نظریہ ہے، احمدیوں کا نہیں۔ہاں اطاعت نہ کرنے کی بعض حالات میں جیسا کہ میں نے کہا سوائے اس کے کہ کفر پر مجبور کیا جارہا ہو ، جو ہمیں جماعت میں ایک مثال نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ جب پاکستان میں یا بعض دوسرے ممالک میں احمدیوں کو کہا جاتا ہے