خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 116 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 116

خطبات مسرور جلد نهم 116 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 مارچ 2011ء فرمایا کہ ”دنیا میں انسان کو جو بہشت حاصل ہوتا ہے وہ قد اَفْلَحَ مَنْ زَكتها ( الشمس: 10) پر عمل کرنے سے ملتا ہے۔جب انسان عبادت کا اصل مفہوم اور مغز حاصل کر لیتا ہے تو خدا تعالیٰ کے انعام و اکرام کا پاک سلسلہ جاری ہو جاتا ہے اور جو نعمتیں آئندہ بعد مردن ظاہری، مرکی اور محسوس طور پر ملیں گی وہ اب روحانی طور پر پاتا ہے“۔( الحکم جلد 6 نمبر 26 مورخہ 24 جولائی 1902ء صفحہ 9 کالم نمبر 3) ( یعنی جو نعمتیں مرنے کے بعد ملنی ہیں اور جو محسوس بھی ہوں گی وہ روحانی طور پر اس دنیا میں مل جاتی ہیں) پس یہ وہ اصل مقصد ہے جس کے لئے اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئے کہ انسانوں میں پاک تبدیلیاں لا کر روحانی نعمتوں کو حاصل کرنے والا بنائیں۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو اس اصل اور مقصد کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہوں نے اس حقیقت کو جانا اور اپنے نفسوں کے تزکیہ کے لئے کوشش کی اور اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والے ہوئے۔جیسا کہ میں نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ نے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے اندر غیر معمولی تبدیلیاں پیدا کیں اور پھر آگے اپنی نسلوں میں بھی منتقل کرنے کی کوشش کی۔خوش قسمت ہیں وہ نسلیں جنہوں نے اس فیض کو آگے چلایا۔اس وقت میں ایک ایسے ہی بزرگ کا ذکر کرنے لگا ہوں جنہوں نے اپنے صحابی باپ دادا کے نام کو روشن کیا۔تزکیہ نفس کی جن خصوصیات کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ذکر فرمایا ہے وہ اس بزرگ میں ہمیں نظر آتی ہیں۔میرا اس بزرگ سے بڑا قریبی تعلق تھا اور ہے۔یہ بزرگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دو جلیل القدر صحابہ کے پوتے اور نواسے تھے۔گزشتہ دنوں ان کی وفات ہوئی ہے۔ان کا نام حضرت سید داؤد مظفر شاہ صاحب تھا۔جیسا کہ میں نے کہا، اُن کے دادا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی تھے جن کا نام حضرت ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحب تھا جو تقویٰ، طہارت ، عاجزی اور انکساری اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں بہت بڑھے ہوئے تھے۔جن کے بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے ایک روایت درج کی ہے۔حضرت میاں بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ لکھتے ہیں کہ : ”حضرت سید عبد الستار شاہ صاحب نے (خود) مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول سخت بیمار ہو گئے۔یہ اس زمانہ کی بات ہے جب وہ حضور کے مکان میں رہتے تھے۔حضور نے بکروں کا صدقہ دیا۔میں اُس وقت موجود تھا، ( یعنی ڈاکٹر عبد الستار شاہ صاحب موجود تھے۔) میں رات کو حضرت خلیفہ اول کے پاس ہی رہا اور دو اپلا تارہا۔صبح کو حضور تشریف لائے ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لائے)۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا ( کچھ صحت بہتر ہو گئی تھی کہ حضور ! ڈاکٹر صاحب ساری رات میرے پاس بیدار رہے ہیں اور دوا وغیرہ