خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page viii of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page viii

خطبات مسرور جلد ہشتم 2 خلاصہ خطبات 6 5 فروری بیت الفتوح لندن 76-66 ذنب اور اثم کا فرق، زندگی کے ہر کام میں تقویٰ کو سامنے نہیں رکھیں گے تو پھر گناہ کا ارتکاب کریں گے ، اسلام تمام شیطانی کاموں کی سختی سے مناہی کرتا ہے ، نماز تمام بے حیائیوں سے روکتی ہے، شراب اور جوئے کے تباہ کن نقصانات، لاٹری کا نظام بھی حرام ہے، کمزور بھائیوں کی پردہ پوشی کرو، تجسس سے بچو، اللہ تعالیٰ مومنوں میں محبت پیار اور بھائی چارہ پیدا کرنا چاہتا ہے ، غیبت سے جماعت اور عہد پر اروں کو 89-77 98-90 بھی بچنا چاہیے ، بدظنی سے بچاؤ کی تلقین، مکرم سمیع اللہ صاحب شہداد پور ضلع سانگھڑ کی شہادت۔7 12 فروری بیت الفتوح لندن رفقاء حضرت مسیح موعود کی محبت و غیرت الہی کے واقعات ، پردے کے احکامات، حضرت مسیح موعود کا پیغام کا پہنچنا اور انکار کے نتیجے میں طاعون کا آنا، سندھ میں آریہ سماج کے مقابلے میں جماعت احمدیہ کا کردار ، غیروں میں شادیاں، بعد میں نسلیں تباہ ہو جاتی ہیں احمدی خیال رکھیں ، حضرت خلیفہ المسیح الاول کا خدا پر توکل ، اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو عاجزی میں اور توکل میں بڑھاتے ہوئے ایمان میں ترقی دینے والا ہو 8 19 فروری بیت الفتوح لندن صفت حسیب۔اسلامی احکامات کا ایک بنیادی حکم کے اپنوں کے ساتھ ساتھ دوسروں سے بھی نیک جذبات کا اظہار کرو، آپ صلی این کلم کا صحابہ کو آپس میں سلام کو رواج ڈالنے کی تلقین اور آپ صلی یی کم کا اند از تربیت کے بارے کی روایات، اس زمانے میں سلامتی اور امن کی ضمانت بنا کر اللہ تعالیٰ نے حضور کو بھیجا ہے ، آنحضرت صلی الظلم کا نمونہ تمام تکلیفوں کے باوجود فرمانا کہ کاش تم لوگ سیدھے راستے کی طرف آجاؤ ہدایت پا جاؤ، یہی جذبہ ہے جو آج کل آنحضرت صلی امیر کرم کے عاشق صادق کے ماننے والوں کی جماعت کا ہونا چاہیے، احمدیوں کا یقین کہ غلبہ انشاء اللہ اسلام کا ہی ہونا ہے ، تمام مظالم کے جواب میں حسبی اللہ کہیں۔9 26 فروری بیت الفتوح لندن 109-99 صفت حسیب کے حوالے سے یتیموں کے حقوق اور ان سے حسن سلوک، یتیموں کی تعلیم و تربیت سے غافل نہ ہو جاؤ، یتیم کو پالنے کی اہمیت کے بارے احادیث ، جماعت میں بھی یتیموں کی پرورش کا خیال رکھا جاتا ہے افریقہ اور بعض اور ممالک میں بھی پاکستان میں یکصد یتامی کمیٹی کام کر رہی ہے، تمام پاکستانیوں کو تحریک جو امریکہ ، کینیڈا، اور یورپ یا انگلستان میں رہتے ہیں کہ اس تحریک میں حصہ لیں اسی طرح پاکستان کے مخیر افراد کو بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں۔10 5 مارچ بیت الفتوح لندن 122-110 انبیاء کے ماننے والوں کی تعداد عموماً بہت قلیل ہوتی ہے اور ان کی بھر پور مخالفت ہوتی ہے اور یہی سلوک آنحضرت صلی علی نام کے ساتھ دشمنان اسلام نے کیا مگر آپ صلی علیکم نے استقلال کے ساتھ ان سب کا سامنا کیا اور کامیاب ہوئے ، بعض ممالک میں احمدیت کی مخالفت ہے تو یہ احمدیت کی سچائی کی دلیل ہے 72 فرقوں نے جمع ہو کر زور لگایا ہے مگر جماعت کو نقصان نہیں پہنچانہ پہنچا سکتے ہیں ، ہمارا جواب ہمیشہ یہی رہا ہے حسبنا اللہ و نعم الوکیل، مخالفین کو سزا دینا خدا تعالیٰ کا کام ہے اصل کام نبی اور اس کی جماعت کا تبلیغ کرنا ہے ، کسی قوم کی عمر یا طاقت کالمبا ہو نا دائمی نہیں بلکہ عارضی ہے پہلی قومیں بھی جو پھیلی ہوئی تھیں وہ چھوٹی ہوتی گئیں اب یہی تقدیر امریکہ کے ساتھ بھی دوہرائی جائے گی مسیح محمدی کی جماعت کے لئے خوشخبری کہ جماعت نے دنیا کے کناروں تک پھیلنا ہے یہ زلزلے، طوفان و غیرہ تقدیر کا ایک چکر ہیں ، یہ سب حضرت مسیح موعود کی تائید میں ہی ہیں ، حضرت مسیح موعود کا زلزلوں کو اپنانشان قرار دینا اور زلزلوں کا کچھ ریکارڈ، حضور کا اقتباس کہ دنیا ایک قیامت دیکھے گی، اسے یورپ تو بھی امن میں نہیں۔۔۔، یہ وار نگ خاص طور پر ہندوستان پاکستان کے علاقے کے لئے ہے۔