خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 58
خطبات مسرور جلد ہشتم 58 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 جنوری 2010 مرزا مبارک احمد صاحب کی وفات سے سات دن پہلے (جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سب۔چھوٹے بیٹے تھے، بچپن میں فوت ہو گئے تھے ان کی وفات سے سات دن پہلے ) بہ ہمراہی مولوی غلام حسین والد مولوی محمد یار عارف چک 98 شمالی اور دو اور ہمراہی جن کے اب نام یاد نہیں، ہم چاروں بیعت کی غرض سے قادیان گئے۔اس سے پہلے میں نے بذریعہ خط بیعت کی ہوئی تھی۔ہم چاروں آپ کے مکان پر چلے گئے۔آواز دینے پر آپ باہر تشریف لائے۔مکان کے باہر دو چار پائیاں، ایک بڑی اور ایک چھوٹی پڑی ہوئی تھی۔آپ نے ہماری طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ بڑی چار پائی پر بیٹھ جاؤ اور آپ چھوٹی چار پائی پر بیٹھ گئے۔ہم چونکہ آگے پیروں سے ڈرے ہوئے تھے۔ہم نیچے بیٹھنے لگے مگر آپ نے دوبارہ مجبوراً کہا کہ چارپائی پر بیٹھو۔ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔آخر ہمیں مجبور آچار پائی پر بیٹھنا پڑا۔اس سے آپ کے اخلاق حسنہ کا پتہ لگتا ہے کہ کس قدر وسیع القلب تھے ، کہتے ہیں کہ میں چونکہ سب سے چھوٹا تھا اس لئے میں سب سے نچلی طرف بیٹھا۔مولوی غلام حسین جو حضرت مولوی محمد یار عارف صاحب کے والد تھے ، مجھ سے بڑی عمر کے تھے اور خوب مولویانہ بالشت بھر چمکدار سیاہ داڑھی تھی اور بیٹھے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عین سامنے تھے۔میں نے اپنے دل میں خیال کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مولوی غلام حسین صاحب پر اپنی نظر شفقت فرما دیں گے مگر آپ نے میرے اس خیال کے بر خلاف کیا اور آپ نے میرے ہی ہاتھ پر دست شفقت رکھا باقی ساتھیوں نے میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھے اور آپ نے ہماری بیعت لی۔عین اس وقت جبکہ آپ نے اپنا دست مبارک میرے ہاتھ سے مس کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ آپ کے ہاتھوں سے کوئی چیز بجلی کی طرح میرے تمام جسم میں سرایت کر گئی ہے۔اس وقت آپ کا جلال اس قدر تھا کہ میں سمجھتا تھا کہ اس دنیا میں اس وقت آپ کی شان کا کوئی انسان نہیں ہے۔اس وقت ہم نے آپ کو نبی سمجھ کر بیعت کی تھی۔اس بات سے بھی پتہ چلتا ہے کہ آپ کی نظر میں بڑوں کا ہی لحاظ نہ تھا بلکہ چھوٹوں پر بھی دست شفقت تھا۔آپ کی وفات پر ہمارے چک میں بہت سے لوگوں نے ٹھو کر کھائی اور احمدیت سے منحرف ہونے لگے، مگر باوجود ان پڑھ ہونے کے مجھ پر اللہ تعالیٰ کے فضل نے اور احمدیت کے جلال نے وہ اثر ڈالا ہوا تھا کہ میں نے کہا کہ اگر ساری دنیا بھی احمدیت چھوڑ جائے مگر میں احمدیت کو نہ چھوڑوں گا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ حضرت مسیح موعود ( غیر مطبوعہ ) جلد نمبر 1 صفحہ 70-69 روایت چوہدری علی محمد صاحب گوندل) حضرت نظام الدین صاحب پوسٹ ماسٹر نبی پور روایت کرتے ہیں کہ ”میں ایک دفعہ سخت بیمار قریب المرگ ہو گیا۔میں بیہوشی کی حالت میں تھا کہ حضرت مسیح موعود تشریف لائے تو کمرہ نُورٌ عَلى نُوْرِ ہو گیا۔ایک الماری جو بو تلوں سے دوائیوں سے قدر تا بھری ہوئی تھی۔اپنے دست مبارک سے کھول کر ایک بوتل کے لیبل پر انگشت مبارک رکھ کر حضور نے ارشاد فرمایا: منشی جی اس سے 20 بوندیں پیو۔اسی وقت سے اللہ تعالیٰ نے مجھے صحت بخش دی۔رجسٹر روایات صحابہ حضرت مسیح موعود (غیر مطبوعہ ) جلد 1 صفحہ 75 روایت نظام الدین صاحب)