خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 59
خطبات مسرور جلد ہشتم 59 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جنوری 2010 پھر حضرت سید میر عنایت علی شاہ صاحب لدھیانہ ایک روایت کرتے ہیں کہ ہماری برادری میں ہی خان بہادر ڈپٹی امیر علی شاہ صاحب مرحوم کا مکان تجویز کیا گیا۔(اس وقت ٹھہرنے کیلئے حضرت مسیح موعود نے وہاں تشریف لے جانی تھی۔تو ڈپٹی امیر علی شاہ صاحب کا مکان تجویز ہوا کہ وہاں رہائش فرمائیں گے)۔تو کہتے ہیں چنانچہ ڈپٹی صاحب مرحوم کو کہا گیا کہ اپنے تکلفات کا سامان اٹھا لیجئے۔قالین، صوفے وغیرہ جو پڑے ہیں وہاں سے اٹھا لیں۔کیونکہ حضرت مرزا صاحب کی آمد پر غرباء نے بھی آتا ہے اور یہ ایک للہی محفل ہو گی آپ کو بعد میں کوئی شکایت نہ ہو۔لیکن ڈپٹی صاحب مذکور کے مختار نے بتلایا کہ ہمارے قالین، گاؤ تکیے ایک بزرگ انسان کے قدموں سے برکت حاصل کریں گے۔اس میں ہی ہماری خوشی ہے۔چنانچہ حسب تحریر جب حضور لدھیانہ کے لئے روانہ ہوئے۔شہر میں ایک شور پڑ گیا اور پبلک سٹیشن پر پہنچی۔(بہت سے لوگ اکٹھے ہو گئے سٹیشن پر )۔بعض پلیٹ فارموں سے اندر اور بعض باہر کھڑے رہے۔سوائے میر عباس علی شاہ کے کوئی حضور پر نور کے چہرے سے واقف نہ تھا۔میں بھی مین گیٹ یعنی صدر دروازے پر کھڑا تھا۔میر صاحب اندر گئے ، میں ٹکٹ کلکٹر کے پاس اکیلا ہی کھڑا تھا۔گاڑی کی آمد پر میر صاحب مذکور اندر گاڑیوں میں تلاش کرنے لگے۔حضرت صاحب اگلی گاڑی سے یکا یک اتر کر بنفس نفیس صدر دروازے پر تشریف لے آئے۔اس وقت حضرت صاحب کے ہمراہ تین آدمی تھے۔میں گو پہچانتانہ تھا۔میں نے مسافروں کے چہرے پر نظر دوڑائی۔حضرت اقدس کی سادگی اور نورانی چہرے سے میں نے معادل میں خیال کیا کہ یہی حضور والا صفات ہوں گے اور میں نے مصافحہ کر لیا اور ہاتھوں کو بوسہ دیا۔تین آدمی جو ہمراہ تھے وہ یہ تھے مولوی جان محمد صاحب والد میاں بگا صاحب مرحوم حافظ حامد علی صاحب مرحوم اور لالہ ملاوامل صاحب۔(ماخوذر جسٹر روایات صحابہ حضرت مسیح موعود ( غیر مطبوعہ ) رجسٹر نمبر 1 صفحہ 109-108 روایات سید میر عنایت علی شاہ صاحب لدھیانوی) پھر ایک روایت میاں فیروز الدین صاحب ولد میاں گلاب دین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ساکن سیالکوٹ کی ہے۔کہتے ہیں جب حضور نے مسیحیت کا دعویٰ کیا تو میرے داداصاحب نے کچھ عرصہ کے بعد حضور کی بیعت کر لی اور سارے خاندان کو کہا کہ میں ان کا اس زمانے سے واقف ہوں جبکہ حضور یہاں ملازم تھے اس لئے آپ لوگ میرے سامنے بیعت کریں۔یہ مونہہ جھوٹوں کا نہیں ہو سکتا۔چنانچہ 1892ء میں ہمارے سارے خاندان نے بیعت کر لی۔(رجسٹر روایات صحابہ حضرت مسیح موعود غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 10 صفحہ 128-127 روایات میاں فیروز الدین صاحب ولد میاں گلاب دین صاحب) پھر ایک روایت ڈاکٹر عبد المجید خان صاحب ابن مکرم قدرت اللہ خان صاحب مہاجر شاہجہانپوری کی ہے۔کہتے ہیں کہ گرمی کا موسم تھا۔قریب ایک بجے دن آپ جلدی جلدی چھت پر سے اتر کر باہر تشریف لے گئے۔میں آہستہ آہستہ دبے پاؤں حضور کے پیچھے چلا کہ دیکھوں حضور اس وقت دو پہر میں کہاں تشریف لے