خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 625 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 625

625 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 03دسمبر 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم کے بعد جب دوبارہ حکومت کے کہنے پر ہی اپنے گھر میں آباد ہونے کے لئے آئے تو پھر انہبی شدت پسند ملاؤں نے جن کو بعض حکومتیں پیسے دے رہی ہیں اُن کے گھروں کو دوبارہ جلایا اور ان کو مارا پیٹا اور پھر آخر حکومت نے اُن کو کہا کہ تم واپس انہی جگہوں پر چلے جاؤ جہاں پر پہلے تھے اور اپنے گھر بار ان کو چھوڑنے پڑے، اپنی جائیدادیں چھوڑنی پڑیں۔پس جب یہ ظلم روا ر کھے جاتے ہیں اور رکھے جارہے ہیں تو مومنین جو ہیں وہ تو اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے چلے جاتے ہیں اور جھکتے چلے جائیں گے اور یہی ہتھیار ہیں جو ہماری فتح کے ہتھیار ہیں۔آج یہ ظلم کرنے والے اپنے زعم میں اپنے آپ کو تمام طاقتوں کا مالک سمجھ رہے ہیں لیکن وقت آئے گا کہ یہی لوگ ان مومنین کے ، ظلم سہنے والوں کے زیر نگیں کئے جائیں گے۔ہماری فتح کا ہتھیار تو یہ دعائیں ہی ہیں اور یہی ہتھیار ہے جو دشمن کے شر ان پر الٹائے گا۔اس کے علاوہ ہمارے پاس کچھ نہیں۔جس شدت اور تڑپ کے ساتھ ہم اس ہتھیار کو استعمال کریں گے اُسی قدر جلد ہم احمدیت کی فتح کے نظارے دیکھیں گے۔انشاء اللہ تعالیٰ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارہ میں فرماتے ہیں کہ : یہ سب مقاصد جو ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں صرف دعا کے ذریعہ سے حاصل ہو سکیں گے۔دعا میں بڑی قوتیں ہیں“۔فرمایا ”خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار بذریعہ الہامات کے یہی فرمایا ہے کہ جو کچھ ہو گا دعا ہی کے ذریعہ ہو گا۔ہمارا ہتھیار تو دعا ہی ہے اور اس کے سوائے اور کوئی ہتھیار میرے پاس نہیں۔جو کچھ ہم پوشیدہ مانگتے ہیں خدا تعالیٰ اسے ظاہر کر کے دکھا دیتا ہے“۔فرمایا ” اسلام کے واسطے اب یہی ایک راہ ہے جس کو خشک ملا اور خشک فلسفی نہیں سمجھ سکتا۔اگر ہمارے واسطے لڑائی کی راہ کھلی ہوتی تو اس کے لئے تمام سامان بھی مہیا ہو جاتے۔جب ہماری دعائیں ایک نقطہ پر پہنچ جائیں گی تو جھوٹے خود بخود تباہ ہو جائیں گے “۔فرمایا ”ہمارے نزدیک دعا سے بڑھ کر اور کوئی تیز ہتھیار ہی نہیں۔سعید وہ ہے جو اس بات کو سمجھے کہ خدا تعالیٰ اب دین کو کس راہ سے ترقی دینا چاہتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 36 جدید ایڈیشن) پس یہ ہتھیار ہے جس کو ہم نے استعمال کرنا ہے، یہ ہتھیار ہے جس کے استعمال کی انتہا کرنے کی ہمیں کوشش کرنی ہے۔پس جیسا کہ میں نے کہا ہم یارِ نہاں میں نہاں ہونے کا حق تبھی ادا کر سکتے ہیں جب اپنے فرائض کے ساتھ ہم اپنے نوافل کی ادائیگی اور دعاؤں کو اس کے نکتہ عروج پر پہنچانے کی کوشش کریں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔دعا کی اہمیت کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض مزید ارشادات پیش کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں: ”سب سے عمدہ دعا یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی رضامندی اور گناہوں سے نجات حاصل ہو“۔(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 30 جدید ایڈیشن)