خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 626
خطبات مسرور جلد ہشتم 626 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03دسمبر 2010 (اللہ تعالیٰ راضی ہو جائے، گناہوں سے نجات حاصل ہو جائے تو پھر مومن کی باقی دعائیں بھی جلدی جلدی قبولیت پاتی چلی جاتی ہیں )۔پھر فرمایا ”ہمارا تو سارا دارو مدار ہی دعا پر ہے۔دعا ہی ایک ہتھیار ہے جس سے مومن ہر کام میں فتح پاسکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے مومن کو دعا کرنے کی تاکید فرمائی ہے بلکہ وہ دعا کا منتظر رہتا ہے“۔(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 39۔جدید ایڈیشن) (اللہ تعالیٰ تو اس بات کے انتظار میں رہتا ہے کہ کب موسمن مجھ سے مانگے اور میں اسے دوں، بشر طیکہ دعا کا حق ادا کرتے ہوئے دعا کی جائے) پھر ایک جگہ آپ فرماتے ہیں: ”دعا کی مثال ایک چشمہ شیریں کی طرح ہے جس پر مومن بیٹھا ہوا ہے۔وہ جب چاہے اس چشمہ سے اپنے آپ کو سیراب کر سکتا ہے۔جس طرح ایک مچھلی پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی اسی طرح مومن کا پانی دعا ہے کہ جس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔اس دعا کا ٹھیک محل نماز ہے جس میں وہ راحت و سرور مومن کو ملتا ہے کہ جس کے مقابل ایک عیاش کا کامل درجہ کا سرور جو اُسے کسی بد معاشی میں میسر آسکتا ہے، بیچ ہے۔بڑی بات جو دعا میں حاصل ہوتی ہے وہ قرب الہی ہے۔دعا کے ذریعہ ہی انسان خدا تعالیٰ کے نزدیک ہو جاتا ہے اور اسے اپنی طرف کھینچتا ہے۔جب مومن کی دعا میں پورا اخلاص اور انقطاع پیدا ہو جاتا ہے تو خدا کو بھی اس پر رحم آجاتا ہے اور (خدا) اس کا متولی ہو جاتا ہے“۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 46-45۔جدید ایڈیشن) پھر آپ فرماتے ہیں :۔”یقینا سمجھو کہ دعا بڑی دولت ہے۔جو شخص دعا کو نہیں چھوڑتا اس کے دین اور دنیا پر آفت نہ آئے گی۔وہ ایک ایسے قلعہ میں محفوظ ہے جس کے ارد گرد مسلح سپاہی ہر وقت حفاظت کرتے ہیں“۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 148۔جدید ایڈیشن) پس اس زمانے میں دعا کا ہتھیار ہی اہم ہتھیار ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیا گیا ہے اور یہ دعا ہی کا ہتھیار ہے جس سے لیکھرام بھی اپنے انجام کو پہنچا تھا، جس سے ڈوئی کا بد انجام بھی دنیا نے دیکھا تھا۔جس سے ہر مخالف جو آپ کی مخالفت میں انتہا کو پہنچا ذلت ورسوائی کا مورد بنا تھا۔قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجاد ینے کا دعویٰ کرنے والوں کا مقابلہ بھی دعاؤں سے ہی کیا گیا تھا اور پھر ان کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔احمدیت کے ہاتھوں میں کشکول پکڑوانے والوں اور احمدیت کو کینسر کہہ کر ختم کرنے والوں کا مقابلہ بھی دعاؤں سے ہی ہوا تھا اور ان کے نام و نشان مٹ گئے۔آج بھی انشاء اللہ تعالیٰ مخالفتوں کی آندھیاں ان دعاؤں کی وجہ سے ہی مخالفین پر الٹیں گی۔اور دنیا دیکھے گی کہ کس طرح احمدیت فتوحات کی نئی منزلیں طے کرتی ہے۔پس آج بھی ہمارا کام ہے کہ دعاؤں کی طرف ایک خاص توجہ اور رغبت پیدا کریں۔