خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 610 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 610

خطبات مسرور جلد ہشتم 610 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 نومبر 2010 جواب یہ تھا کہ رَبّ اِنْ كَانَ هَذَا الرَّجُلُ صَادِقًا فِي قَوْلِهِ فَاكْرِمْهُ وَإِن كَانَ كَاذِبًا فَخُذُهُ أَمِيْن۔وہ خط جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مضمون لکھ کر بھیجا، اس پر آپ نے یہ جواب لکھ کر بھیج دیا کہ اے میرے رب ! اگر یہ شخص اپنے اس قول میں جو اس نے کتاب میں لکھا ہے سچا ہے تو تو اس کو معزز اور مکرم بنادے۔اور اگر جھوٹا ہے تو پھر آپ ہی اس سے مواخذہ کر اور اس جھوٹ کی وجہ سے پکڑ۔آمین۔اس سے زیادہ کوئی بات نہیں کی۔(ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مصنفہ شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی صفحہ 463-462) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں کہ مجھے چوہدری حاکم علی صاحب نے بتایا کہ ایک دفعہ حضرت صاحب بڑی مسجد میں کوئی لیکچر یا خطبہ دے رہے تھے کہ ایک سکھ مسجد میں گھس آیا اور سامنے کھڑا ہو کر حضرت صاحب کو اور آپ کی جماعت کو سخت گندی اور مخش گالیاں دینے لگا۔اور ایسا شر وع ہوا کہ بس چپ ہونے میں ہی نہ آتا تھا۔مگر حضرت صاحب خاموشی کے ساتھ سنتے رہے۔اس وقت بعض طبائع میں اتنا جوش تھا کہ حضرت صاحب کی اجازت ہوتی تو اس کی وہیں تکہ بوٹی اُڑ جاتی۔مگر آپ سے ڈر کر سب خاموش تھے۔آخر جب اس مخش زبانی کی حد ہو گئی تو حضرت صاحب نے فرمایا۔دو آدمی اسے نرمی سے پکڑ کر مسجد سے باہر نکال دیں مگر اسے کچھ نہ کہیں۔اگر یہ نہ جاوے تو حاکم علی سپاہی کے سپر د کر دیں۔(ماخوذ از سیرت المہدی جلد اول حصہ اول صفحه 257 روایت نمبر 286 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) منارة المسیح کی تعمیر اور لوگوں کے اعتراض کا جواب حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے حافظ روشن علی صاحب نے بتایا کہ جب منارة المسیح کے بنے کی تیاری ہوئی تو قادیان کے لوگوں نے افسران گورنمنٹ کے پاس شکایتیں کیں کہ اس منارہ کے بننے سے ہمارے مکانوں کی پردہ دری ہو گی۔(بے پردگی ہو گی) چنانچہ گورنمنٹ کی طرف سے ایک ڈپٹی قادیان آیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مسجد مبارک کے ساتھ والے حجرے میں ملا۔اس وقت قادیان کے بعض لوگ جو شکایت کرنے والے تھے ، وہ بھی اس کے ساتھ تھے۔حضرت صاحب سے ڈپٹی کی باتیں ہوتی رہیں اور اسی گفتگو میں حضرت صاحب نے ڈپٹی کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یہ بڈھا مل بیٹھا ہے ( ایک ہندو تھا اس کا نام تھا بڑھا کل) آپ اس سے پوچھ لیں کہ بچپن سے لے کر آج تک کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ اسے فائدہ پہنچانے کا مجھے کوئی موقع ملا ہو اور میں نے فائدہ پہنچانے میں کوئی کمی کی ہو، یعنی وہ شخص جو ہندو تھا کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ مجھے اس کو فائدہ پہنچانے کا موقع ملا ہو اور پھر میں نے اس میں کوئی کمی کی ہو بلکہ ہمیشہ اسے فائدہ پہنچایا ہے ) اور پھر فرمایا کہ اسی سے پوچھیں کہ کبھی ایسا ہوا ہے کہ مجھے تکلیف دینے کا اسے کوئی موقع ملا ہو تو اس نے مجھے تکلیف پہنچانے میں کوئی کسر چھوڑی ہو۔( یعنی وہ جب بھی اس کو موقع ملا اس نے ہمیشہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تکلیف پہنچائی لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے جواب میں جب بھی موقع ملا اسے فائدہ پہنچایا۔) حافظ صاحب نے بیان