خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 609 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 609

خطبات مسرور جلد هشتم 609 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 نومبر 2010 اس طرح کے بازاری حملوں پر ہی اکتفانہ کیا جاتا تھا۔آپ کے قتل کے فتووں اور منصوبوں پر پھر اس کے لئے کوششوں کو ہی کافی نہیں سمجھا جاتا تھا۔قتل کے لئے فتوے بھی موجود تھے۔اس کے لئے منصوبے بھی بنائے گئے۔کوششیں بھی کی گئیں اور صرف یہی نہیں بلکہ اخبارات اور خطوط میں بھی گالیوں کی بوچھاڑ کی جاتی تھی۔اور پھر اسی پر بس نہیں۔ایسے خطوط عموماً بے رنگ آپ کو بھیج دیئے جاتے تھے ، یعنی جس پر ٹکٹ نہیں لگایا جاتا تھا۔ڈاک کے ذریعے سے خط بھیجے جاتے تھے اور ٹکٹ نہیں لگایا جاتا تھا۔اگر ٹکٹ نہ لگا ہوا خط آئے تو جو خط وصول کرتا ہے وہ اس ٹکٹ کی جو postal stamp ہے اس کے پیسے ادا کرتا ہے۔سو لوگ اس طرح بغیر ٹکٹ لگائے خط بھیج دیا کرتے تھے اور اس کے پیسے بھی پھر اپنے پاس سے وصول کرنے والے کو دینے پڑتے تھے۔یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کی ادائیگی کرتے تھے۔کہتے ہیں کہ خدا کا بر گزیدہ ان خطوط کو ڈاک کا محصول اپنی گرہ سے ادا کر کے لیتا تھا (جیسا کہ میں نے بتایا) اور جب کھولتا تھا تو ان میں اول سے لے کر آخر تک گندی اور فحش گالیوں کے سوا کچھ نہ ہو تا تھا۔آپ ان پر سے گزر جاتے اور ان شریروں اور شوخ چشموں کے لئے دعا کر کے ان کے خطوط ایک تھیلے میں ڈال دیتے تھے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ان ایام میں اپنی مخالفت میں حد سے بڑھے ہوئے تھے۔اور اس نے اپنی گالیوں پر اکتفانہ کر کے سعد اللہ لدھیانوی، جعفر زٹلی اور بعض دوسرے بے باک آدمیوں کو اپنار فیق اور معاون بنار کھا تھا۔وہ ہر قسم کی اہانت کرتے مگر خدا کے برگزیدہ کو اس کا شیریں کلام إِنِّي مُهِينٌ مَنْ اَرَادَ لِهَانَتَك تسلی دیتا اور کامل صبر سے ان گندی تحریروں پر سے گزر جاتے۔ایک مرتبہ 1898ء میں مولوی محمد حسین صاحب نے اپنا ایک گالیوں کا بھرا ہوار سالہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور بھیجا۔وہ لکھتے ہیں کہ میں نے 27 جولائی 1898ء کے الحکم میں اس کو درج کر دیا۔کہتے ہیں کہ آج بھی میں تیس سال کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوصلہ اور ضبط نفس اور توجہ الی اللہ پر غور کرتے ہوئے پڑھتا ہوں تو میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل جاتے ہیں۔انہوں نے آگے شعر لکھا ہے کہ۔دل میں اک درد اُٹھا آنکھوں میں آنسو بھر آئے بیٹھے بیٹھے کیا جانئے ہمیں کیا یاد آیا پرانے واقعات یاد کر کے کہتے ہیں اب بھی مجھے رونا آ جاتا ہے۔لکھتے ہیں کہ 25 جولائی 1898ء کا واقعہ ہے جبکہ ایک شخص محمد ولد چو غَطَّہ قوم اعوان ساکن ہمو گھگڑ ضلع سیالکوٹ نے مولوی صاحب کا رسالہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور پیش کیا جسے مولوی محمد حسین صاحب نے بھیجا تھا۔آپ نے وہ رسالہ لانے والے قاصد کو اس پر ایک فقرہ لکھ کر واپس کر دیا اور وہی اس کا جواب تھا۔(مولوی محمد حسین کا جور سالہ لے کر ان کی طرف سے آیا تھا اس پر ایک فقرہ لکھا اور واپس کر دیا کہ لے جاؤ ان کو دے دو) اور جواب مذکور مولانا مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حاضرین کو پڑھ کے سنایا، (جو جواب لکھا تھا وہ پھر مجلس میں پڑھ کے سنایا گیا ) اور سب نے آمین کہی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا