خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 556
خطبات مسرور جلد ہشتم 556 44 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 اکتوبر 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 اکتوبر 2010ء بمطابق 29 اخاء1389 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا عَظِيمًا ( النساء: 49) اس آیت کا ترجمہ ہے کہ یقیناً اللہ معاف نہیں کرے گا کہ اس کا کوئی شریک ٹھہر آیا جائے اور اس کے علاوہ سب کچھ معاف کر دے گا جس کے لئے وہ چاہے۔اور جو اللہ کا شریک ٹھہرائے تو یقیناً اس نے بہت بڑا گناہ افتراء کیا ہے۔جوں جوں انسان ایجادات کی وجہ سے ایک دوسرے کے قریب ہو رہا ہے۔ایک ملک کی ایجاد سے دوسرے ملک کے باشندے جو ہزاروں میل دور رہتے ہیں وہ بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔آپس کے رابطوں نے جہاں ترقی کے راستے کھولے ہیں وہاں ایک دوسرے کی برائیاں بھی تیزی سے اپنائی جارہی ہیں۔برائیوں میں یا لہو ولعب میں کیونکہ جاذبیت زیادہ ہوتی ہے اس لئے وہ اپنی طرف زیادہ کھینچتی ہیں انسان انہیں اپنانے میں بڑی تیزی اور شدت دکھاتا ہے۔یعنی اختیار کرنے میں جلدی بھی ہوتی ہے اور بعض دفعہ جوش بھی پیدا ہو جاتا ہے۔اس وقت وہ بھول جاتا ہے کہ وہ کون ہے؟ کن روایات کا حامل ہے ؟ کسی معاشرے میں اس کی اٹھان ہوئی ہے ؟ کس مذہب سے اس کا تعلق ہے ؟ خدا تعالیٰ کو کیا پسند ہے اور کیا نہیں پسند ؟ اگر مسلمان ہے تو خدا تعالیٰ نے اس کا مقصد پیدائش کیا بتایا ہے ؟ غرض کہ بہت سی غلط باتیں ہیں جو دنیا داری میں پڑنے اور ماڈرن بننے کے شوق میں ایک اچھے بھلے مذہبی رجحان رکھنے والے سے بھی سرزد ہو جاتی ہیں۔حتی کہ بعض احمدی بھی بعض باتیں معمولی سمجھ کر ان کو کرنے لگ جاتے ہیں جس کے انتہائی بد نتائج نکل سکتے ہیں۔شرک کی برائی ان برائیوں میں سے جو غیر محسوس طریقے سے انسان کو اپنے دام میں گرفتار کر لیتی ہیں ایک شرک نے