خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 464 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 464

خطبات مسرور جلد ہشتم 464 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 ستمبر 2010 پھر ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ: ”خدا کی طرف سعی کرنے والا کبھی بھی ناکام نہیں رہتا۔اس کا سچا وعدہ ہے کہ الَّذِيْنَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنا۔خدائے تعالیٰ کی راہوں کی تلاش میں جو بجو یا ہو اوہ آخر منزلِ مقصود پر پہنچا۔دنیوی امتحانوں کے لئے تیاریاں کرنے والے ، راتوں کو دن بنادینے والے طالب علموں کی محنت اور حالت کو ہم دیکھ کر رحم کھا سکتے ہیں تو کیا اللہ تعالیٰ جس کا رحم اور فضل بے حد اور بے انت ہے اپنی طرف آنے والے کو ضائع کر دے گا؟ ہر گز نہیں، ہر گز نہیں۔اللہ تعالیٰ کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا“۔رپورٹ جلسہ سالانہ 1897ء صفحہ 162-161 مطبوعہ انوار احمدیہ پر لیس قادیان) پھر ایمانی حالت کے حصول اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول میں جو بار یک فرق ہے اس کی علمی بحث کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: روح القدس کی تائید جو مومن کے شامل حال ہوتی ہے وہ محض خدا تعالیٰ کا انعام ہوتا ہے جو ان کو ملتا ہے جو بچے دل سے آنحضرت صلی علی یکم اور قرآن شریف پر ایمان لاتے ہیں۔وہ کسی مجاہدہ سے نہیں ملتا محض ایمان سے ملتا ہے اور مفت ملتا ہے۔صرف یہ شرط ہے کہ ایسا شخص ایمان میں صادق ہو اور قدم میں استوار اور امتحان کے وقت صابر ہو۔لیکن خدائے عزو جل کی لدنی ہدایت جو اس آیت میں مذکور ہے وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ شبكنا (العنکبوت :70)۔وہ بجز مجاہدہ کے نہیں ملتی“۔( ایک اللہ تعالیٰ کی طرف سے مل رہی ہے یہ چیز اور ایک خاص مجاہدہ سے ملتی ہے۔) ”مجاہدہ کرنے والا ا بھی مثل اندھے کے ہوتا ہے“۔( عام ایمانی حالت تو مل جاتی ہے اس سے بغیر زیادہ مجاہدے کے ، لیکن ابھی اس کی حالت اندھے کی سی ہے۔اس میں مزید ترقی کے درجے پانے کی ضرورت ہے۔فرمایا کہ اس کی حالت ابھی مثل اندھے کی ہے ) اور اس میں اور بینا ہونے میں ابھی بہت فاصلہ ہوتا ہے۔مگر روح القدس کی تائید اس کو نیک ظن کر دیتی ہے اور اس کو قوت دیتی ہے جو وہ مجاہدہ کی طرف راغب ہو“۔( توجب انسان اللہ تعالیٰ کی طرف کوشش کر رہا ہوتا ہے تو پھر اس کو روح القدس سے قوت مل رہی ہوتی ہے کہ مجاہدہ کرتا چلا جائے ) اور مجاہدہ کے بعد انسان کو ایک اور روح ملتی ہے جو پہلی روح سے بہت قوی اور زبر دست ہوتی ہے۔مگر یہ نہیں کہ دو روحیں ہیں، روح القدس ایک ہی ہے صرف فرق مراتب قوت کا ہے کہ ایک روح ہے ایک میں زیادہ قوت ہے ایک میں کم۔پہلے درجے میں کم قوت تھی، جب دوسرا درجہ حاصل کیا تو زیادہ قوت پیدا ہو گئی۔اور اللہ تعالیٰ کی عرفان اور پہچان زیادہ ہو گئی۔اس کی طرف بڑھنے کے نئے نئے راستوں کی طرف رہنمائی مل گئی۔) ”جیسا کہ دو خدا نہیں ہیں صرف ایک خدا ہے۔مگر وہی خدا جن خاص تجلیات کے ساتھ ان لوگوں کا ناصر اور مربی ہو تا اور ان کے لئے خارق عادت عجائبات دکھاتا ہے وہ دوسروں کو ایسے عجائبات قدرت ہر گز نہیں دکھلاتا“۔چشمه معرفت روحانی خزائن جلد نمبر 23 صفحہ 425,426)