خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 452 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 452

452 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 اگست 2010 خطبات مسرور جلد هشتم دلیلیں پیش کرتی ہے ان کو رڈ کر سکتے تھے۔یا ان میں صلاحیت تھی کہ وہ رڈ کر سکیں۔بہر حال وہ کہتے ہیں کئی دن میں جاتا رہا۔ان کو پڑھنے کے لئے کتابیں بھی دیں۔وہ عالم صاحب ہر بات کے پڑھنے کے بعد اس سے زیادہ کچھ نہیں کہتے تھے کہ دیکھو اس کتاب میں کیسی بھی پھسی بات لکھی ہوئی ہے۔یہ کیا فضول بات لکھی ہوئی ہے۔بجائے اس کے کہ اس کی کوئی عقل سے کوئی قرآن سے کوئی حدیث سے دلیل دیتے یا اس کارڈ کرتے۔اسی طرح انہوں نے کہا کہ ایک دفعہ مصطفی ثابت صاحب کے ساتھ میں نے ان کا مناظرہ کروا دیا تو وہاں بھی سوائے ساری رات وقت کا ضیاع ہوا اور کچھ بھی انہوں نے نہیں کیا۔آخر انہوں نے اس نام نہاد عالم کو جن کو وہ بہت بڑا عالم سمجھتے تھے چھوڑ دیا اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی حق کی طرف رہنمائی فرمائی۔(الفضل انٹر نیشنل مورخہ 27اگست تا2 ستمبر 2010 صفحہ 3-4) تو باوجو د دینی علم ہونے کے اللہ تعالیٰ کے فرستادے کے زمانے میں ان سب دینی عالموں کی روحانیت اور مذہب کے معاملے میں دلائل ختم ہو جاتے ہیں۔اور مخالفت کی وجہ سے جیسا کہ میں نے کہا روحانیت ختم ہو جاتی ہے۔جب روحانیت ختم ہو جائے تو دینی فہم اور اور اک بھی نہیں رہتا ، نہ رہ سکتا ہے۔کیونکہ یہ تقویٰ سے آتا ہے اور خدا تعالیٰ سے تعلق سے آتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کی مخالفت شروع ہو جائے تو تقویٰ بھی ختم ہو جاتا ہے۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ جو لوگ راستی کے فرزند تھے وہ راستبازوں کی طرف کھنچے چلے آئے اور جو شرارت اور شیطان کی ذریت تھے وہ اس تحریک سے خواب غفلت سے جاگ تو اٹھے اور دینیات کی طرف متوجہ بھی ہو گئے لیکن باعث نقصان استعداد حق کی طرف رخ نہ کر سکے۔پس آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ دین کی رغبت کا دعویٰ تو ہے لیکن روحانی رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے دین کے نام پر شیطانی عمل ہیں۔آج اگر جائزہ لیں تو ایسے ہی لوگ مذہب کے نام پر خون کرنے والے ہیں۔اس اقتباس میں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا میں نے پڑھا، لیلتہ القدر کے حوالے سے ایک بہت اہم بات جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائی ہے وہ یہ ہے کہ اصل لیلتہ القدر آنحضرت صلی می کنم کو عطا ہوئی اور اس لیلتہ القدر کا زمانہ قیامت تک پھیلا ہوا ہے۔اور اس کا نتیجہ ہے کہ نیک لوگ سیدھے راستے کی طرف آرہے ہیں۔آج بھی اس لیلتہ القدر کا وہی فیض ہے جو نیکی اور روحانیت میں ترقی کا باعث بن رہا ہے۔لیکن جو بد بخت ہیں، بد قسمت ہیں وہ راستے سے ہٹے ہوئے ہیں اور ہٹتے چلے جارہے ہیں۔ذریت شیطان بن رہے ہیں۔تباہی کے گڑھے میں گرتے چلے جارہے ہیں۔آنحضرت صلی میزنم کا لیلتہ القدر کا زمانہ آپ کے نائب اور مسیح موعود کے ذریعے دوبارہ ظلی طور پر قائم ہوا ہے۔پس جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اس زمانے کی لیلتہ القدر کی قدر اور پہچان کر کے ہم لیلتہ القدر کو پاسکتے ہیں۔پس لوگوں کی حالتوں، دین پر صحیح ہونا اور سعید فطرت بنتے ہوئے فیض اٹھانا یا اپنے زعم میں دین کے ٹھیکے دار بن کر دین کے نام پر ظلم و بربریت پھیلانا اور خون کرنا اسی طرح مختلف طریقوں سے ایجادات کا پھیلاؤ، ان میں بعض ایجادات جو استعمال ہو رہی ہیں وہ انسانی قدروں اور اخلاق کی پامالی کا ذریعہ بن رہی ہیں اور بعض ایسی بھی ہیں جو مومنوں کے فائدے کے لئے ہیں۔کلام الہی اور علم و فضل کے پھیلانے کا ذریعہ بن رہی ہیں۔تو یہ