خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 440
خطبات مسرور جلد ہشتم 440 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 اگست 2010 تعلق رکھنے والے۔غریبوں کا دکھ بانٹنے والے مخلص وجو د تھے۔ان کے والد مکرم پیر فضل الرحمن صاحب زندہ ہیں، حیات ہیں۔ان کی عمر 91 سال ہے۔چار بہنیں اور دو بھائی ہیں۔اور پہلی بیوی تو میں نے بتایا فوت ہو گئی تھیں۔اولاد میں سے انیس الرحمن ہیں 32 سال ان کی عمر ہے۔حمیر اصاحبہ 23 سال، عائشہ صاحبہ 28 سال۔سب بچے امریکہ میں ہیں اور دوسری اہلیہ جو ان کے بھائی مجیب الرحمن صاحب شہید کی بیوہ ہیں۔ان کے اپنے بچے اعزاز الرحمن 13 سال، معاذالرحمن 11 سال، اور مشعل عمر 7 سال، یہ پسماندگان میں شامل ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر اور حوصلہ دے۔ایک اور مخلص دوست کا میں ذکر کرنا چاہتا ہوں جو موسیٰ رستمی صاحب ہیں، ان کا جنازہ تو میر اخیال ہے میں نے مصطفیٰ ثابت صاحب کے جنازے کے ساتھ ہی پڑھ دیا تھا۔لیکن ایک انتہائی مخلص دوست تھے۔اس لئے میں چاہتا ہوں کہ ان کا ذکر بھی یہاں ہو جائے۔5 اگست 2010ء کو ان کی وفات ہوئی۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ۔کوسووو کے جلسے میں اس سال آپ کی تقریر تھی، اس میں انہوں نے بتایا کہ 1985ء میں ان کے بھائی UK آئے اور انہوں نے حضرت خلیفتہ المسیح الرابع سے ملاقات کی۔جب ان کے بھائی واپس گئے اور اپنی یادوں کا ذکر کیا کہ حضورِ انور سے کیسے ملاقات ہوئی تو موسیٰ صاحب پر اس کا بہت اثر ہوا۔اس کے علاوہ اپنے بھائی میں غیر معمولی انقلاب دیکھ کر بھی ان پر گہرا اثر ہوا۔ہائی سکول اور ملٹری سروس مکمل کرنے کے بعد آپ سوئٹزرلینڈ چلے گئے۔وہاں تقریباً چار سال رہے۔انہوں نے خود بتایا کہ وہاں کے احمدیوں سے مل کر ہمیں بہت خوشی ہوئی۔بعد ازاں آپ کچھ عرصہ ہالینڈ رہے، ہالینڈ جاتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنی زندگی جماعت کی خدمت کے لئے وقف کریں گے۔بیعت تو وہ اپنے بھائی کے اثر کو دیکھ کر پہلے ہی کر چکے تھے۔ہالینڈ میں ہی حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ سے پہلی ملاقات ہوئی اور اس پہلی ملاقات میں انہوں نے اپنی زندگی وقف کرنے کا ذکر کیا تو حضور رحمہ اللہ نے انہیں البانیہ چلے جانے کا کہا۔بہر حال چند وجوہات کی وجہ سے نہیں جاسکے۔سن 2000ء میں امیر صاحب جر منی ہالینڈ تشریف لائے اور انہوں نے کہا کہ کسی کو تلاش کریں جو کو سود و جا سکے تو انہوں نے جواب دیا کہ میرا خیال ہے کہ کوئی بھی وہاں نہیں جانا چاہے گا لیکن میں اس کے لئے تیار ہوں۔چنانچہ مئی 2000ء میں حضرت خلیفہ المسیح الرابع کی اجازت سے وہ کو سوود چلے گئے۔کو سودو میں سب سے پہلے جولان (Gjilan) میں اپنے بھائی کے گھر ٹھہرے جہاں ان کی بہن بھی اپنی فیملی کے ساتھ رہتی تھیں۔بعد میں ان کی بہن بھی احمدی ہو گئیں۔اس طرح پہلا جمعہ ان کے گھر میں ہی ادا کیا گیا۔اس کے بعد پرشتنا (Prishtna) چلے گئے۔دس سال تک جماعت کو سودو کے صدر رہے۔جماعت کی ترقی اور اس کے مفاد کے لئے ہمیشہ کوشاں رہے۔تبلیغ کا بہت شوق تھا۔کسی نہ کسی رنگ میں پیغام حق پہنچاتے رہتے تھے۔بڑی دلجمعی سے جماعت کے کام کرتے تھے۔جماعتی رقوم کو بڑی احتیاط سے خرچ کیا