خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 396 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 396

خطبات مسرور جلد ہشتم 396 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 جولائی 2010 مقصد کو پیش نظر رکھیں گے اور جلسے کے دنوں میں نیکیوں کو مزید نکھارنے کی کوشش کریں گے تو یقیناً بشارت پانے والے مومنین کے زمرہ میں شامل ہونے والے بنیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی بیعت میں آنے والے مہمانوں کی بہت عزت و تکریم فرماتے تھے۔ان سے یہ بھی فرما دیا کرتے تھے کہ اپنی ضروریات بے تکلفی سے بیان کر دیا کرو۔لیکن جلسے کے جو مہمان تھے ان کے لئے آپ فرمایا کرتے تھے کہ ایک ہی انتظام ہو۔ہر مہمان کی اسی طرح مہمان نوازی کی جائے جو ایک انتظام کے تحت ہے۔لیکن ساتھ ہی اس تکریم کے باوجو د عام حالات میں بھی بڑے زور سے ہر مہمان کے دل میں یہ بات راسخ فرماتے تھے کہ تمہاری یہاں آنے کی اصل غرض دین سیکھنا ہے اور اپنے دل و دماغ کو پاک کرنا اور اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کی منازل کو طے کرنا ہے۔پس یہی غرض ہے جس کے حصول کے لئے ہر سال آپ لوگ مہمان بن کر یہاں آتے ہیں اور جمع ہوتے ہیں۔اور اسی غرض کے لئے جلسہ سالانہ پر آنے والے مہمانوں کو جلسہ میں شامل ہونے کے لئے آنا چاہئے۔مہمانوں کے لئے چند عمومی باتیں بھی میں سامنے رکھنا چاہوں گا۔ایک مومن کے لئے اپنے وقت کا صحیح استعمال انتہائی ضروری ہے۔جب ایسے اجتماعی موقعوں پر سب جمع ہوتے ہیں تو دور دور سے آئے ہوئے عزیزوں اور واقف کاروں کی ایک دوسرے سے ملاقاتوں اور مل بیٹھنے کی خواہش بھی ہوتی ہے۔اب جبکہ صرف ایک ملک کے رہنے والے واقف کار اور عزیز نہیں بلکہ دوسرے ملکوں کے رہنے والے واقف کاروں اور عزیزوں سے بھی ملاقات کے سامان ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ جماعت پیدا فرمائی ہے جس نے ملکوں اور قوموں کی سرحدوں اور فرقوں کو بھی ختم کر دیا اور ایک عظیم بھائی چارے کی بنیاد پڑ چکی ہے۔اور آپ نے جلسہ میں شامل ہونے والوں کا ایک مقصد یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ جماعت کے تعلقات اخوت استحکام پذیر ہوں۔ان میں مضبوطی پیدا ہوتی چلی جائے۔ہم ایک قوم بن جائیں۔اور اس کے لئے ظاہر ہے، مل بیٹھنے کی ضرورت بھی ہو گی۔ایک دوسرے سے واقفیت اور تعلق بڑھانے کی ضرورت بھی ہو گی۔لیکن سارا دن جلسہ کا جو پروگرام ہو رہا ہوتا ہے، اس کو جلسہ سننے میں گزارنا چاہئے۔اور اس کے بعد ہی اس کے لئے موقعہ میسر آتا ہے۔لیکن بعض دفعہ یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ یہ مل بیٹھنا اتنا لمبا ہو جاتا ہے کہ خوش گپیوں میں ساری ساری رات ضائع ہو جاتی ہے۔یا کھانے کی مار کی میں باتوں میں اتنا وقت لگ جاتا ہے کہ نمازوں کے اوقات میں انتظامیہ کو یاد دہانی کروانی پڑتی ہے۔اسی طرح جو گھروں میں اپنے عزیزوں یا واقف کاروں کے پاس ٹھہرے ہوئے ہیں ، وہ بھی لمبی مجلسوں کی وجہ سے وقت ضائع کر رہے ہوتے ہیں اور جلسے پر آنے کی اصل غرض کو بھول جاتے ہیں۔پس ہر کام میں اعتدال ہونا چاہئے اور یہی ایک مومن کی شان ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں مومنوں کو آنحضرت صلی نیم کی طرف سے کھانے کی