خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 294 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 294

خطبات مسرور جلد ہشتم 294 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 جون 2010 کرسیوں پر بیٹھتے تھے ، لیکن سانحہ کے روز اندر ہال میں کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے کہ دہشتگر دنے جب گولیوں کی بوچھاڑ کی تو آپ کو 35 کے قریب گولیاں لگیں اور موقع پر شہید ہو گئے۔اللہ درجات بلند فرمائے۔مکرم خاور ایوب صاحب خاور ایوب صاحب شہید ابن مکرم محمد ایوب خان صاحب۔شہید مرحوم کا خاندان گلگت کا رہنے والا تھا۔تاہم ان کی پیدائش بھیرہ ضلع سرگودھا میں ہوئی۔دسویں تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد لاہور آگئے۔1978ء میں واپڈا میں ملازمت شروع کر دی۔اس وقت اکاؤنٹ اور بجٹ آفیسر کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔1984ء میں بیعت کر کے احمدیت میں شمولیت اختیار کی۔شہادت کے وقت ان کی عمر 50 سال تھی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔سیکرٹری وقف نو اور محاسب کی حیثیت سے خدمات بجالا رہے تھے۔سابق قائد مجلس انصار اللہ بھی تھے۔دارالذکر میں ان کی شہادت ہوئی۔ایک عرصے سے دارالذکر میں نماز جمعہ ادا کیا کرتے تھے۔سانحہ کے روز بھی ملازمت سے جمعہ پڑھنے کے لئے گئے اور مین ہال میں بیٹھے تھے۔دو گولیاں لگیں ایک دل کے قریب، اور دوسری گھٹنے میں۔قریباً سوا دو بجے گھر فون کیا کہ دہشت گرد آگئے ہیں، ان کے پاس اسلحہ ہے، آپ دعا کریں۔پھر اہلیہ رابطہ کرتی رہیں۔تیسری دفعہ رابطہ ہوا تو یہی کہا کہ بس سب دعا کرو۔اس کے بعد پھر شہید ہو گئے۔اہلیہ کہتی ہیں بڑے اچھے انسان تھے۔باجماعت نماز ادا کرتے تھے۔لوگوں نے ان کے متعلق یہی رائے دی ہے کہ بڑے اچھے انسان تھے اور آپ میں بڑی انتظامی صلاحیت تھی۔بچوں کی تربیت بھی خوب اچھی طرح کی۔حقوق العباد ادا کرنے والے بھی تھے۔خلافت کے وفادار اور شیدائی تھے۔خاور ایوب صاحب کے بارے میں الیاس خان صاحب نے لکھا ہے کہ 1980ء میں خاور ایوب صاحب کو بی اے کے بعد واپڈا میں ملازمت مل گئی۔اور یہ عزیز داری کی بنیاد پر بھیرہ ضلع سرگودھا سے ہمارے گھر رحمان پورہ آگئے۔ہمارے گھر کا احمدی ماحول تھا۔الیاس خان صاحب کہتے ہیں ہماری تربیت احمدی تعلیمات کے مطابق تھی تو خاور ایوب صاحب بھی ہمارے ماحول کا ایک حصہ بن چکے تھے۔مگر احمدی نہیں ہوئے تھے۔البتہ احمدیت کی تعلیم سن کے روایتی اعتراضات جو مولوی کرتے ہیں وہ کرتے رہتے تھے۔یہاں تک کہ ہم ان کو چھیڑ ا کرتے تھے کہ سوال کرو۔کیونکہ شہید مرحوم بہت سوال کیا کرتے تھے۔ایک روز ایک ہمارے مبلغ سلسلہ برکت اللہ صاحب مرحوم نے مجلس سوال و جواب کا انعقاد کیا۔خاور صاحب سوال کی کثرت کی وجہ سے مشہور تھے اس لئے مربی صاحب نے شہید مرحوم کو مخاطب کر کے فرمایا خاور صاحب سوال کریں۔تو انہوں نے کہا اب میرا کوئی سوال نہیں ہے۔اور پھر کچھ عرصے بعد بیعت کر لی۔ان کے عزیز کہتے ہیں کہ ہم ان کو کہتے تھے کہ سوچ لو۔لیکن انہوں نے ہمارا یہ کہہ کر منہ بند کرا دیا کہ اگر تم میری بیعت نہیں کرواؤ گے تو میں حضور کو لکھوں گا کہ یہ میری بیعت نہیں کرواتے۔اور پھر بیعت کرنے کے بعد نیکی اور روحانیت میں اللہ کے فضل سے بڑی ترقی کی۔